پھول سا  اُسکاچہرہ ،
غصے سے لال تھا!
معصوم سے ذہن میں،
بس اک سوال تھا!
 کوئی اور میری ماں کے قریب!
 آئے کیوں !
سینے سے میری ماں کو !
کوئی لگائے کیوں
بٹانے کو کسی سے بھی میں نہیں تیار!
پورا کا پورا چاہیے ''ماں''،
مجھ کو تیرا پیار  !