دل شوریدہ خو کی خون افشانی نہیں جاتی
نہ روئے عشق کے انجام پر کوئی زمانہ میں

کہ اس منزل میں عقل و ہوش کی مانی نہیں جاتی
جہاں بھی دیکھئے غم اور تمناں کی یورش ہے

خدایا!کیوں متاع غم کی  ارزانی نہیں جاتی؟
تکلف برطرف کچھ تو سبب ہے ماجرا کیا ہے

ہماری ہی تری محفل مین کیوں مانی نہیں جاتی؟
کئے جاتا ہوں سجدے آستان عشق پر ہر دم

بھلا ہو دل کا میری خوئے ایمانی نہیں جاتی
ہمیں ہستی کی اس جادوگری نے مار رکھا ہے

پریشانی جو جاتی ہے تو حیرانی نہیں جاتی
تعجب سے نگاہ لطف کا منھ تک رہا ہے دل

نئے اس روپ میں ظالم یہ پہچانی نہیں جاتی
اٹھا کرتی ہے قلب ناتواں میں ہوک جو اکثر

وہ پہچانی تو جاتی ہے مگر جانی نہیں جاتی
ہوا ہے رنج و غم سے تنگ تیرا قافیہ سرور

تعجب ہے کہ پھر بھی یہ غزل خوانی نہیں جاتی