- سرورق
- شعراء کی فہرست حروف تہجی سے
- س
- سرور عالم راز سرور
- جو چشم کرم ہے وہ زمانے کے لئے ہے
- سرورق
- غزلیات
- سرور عالم راز سرور
- جو چشم کرم ہے وہ زمانے کے لئے ہے
جو چشم کرم ہے وہ زمانے کے لئے ہے
جو چشم کرم ہے وہ زمانے کے لئے ہے
اور یہ دل مظلوم ستانے کے لئے ہے
یہ ذکروفا شوق بڑھانے کے لئے ہے
اور شوق جفا جان سے جانے کے لئے ہے
کیا آنکھ تری نم مری حالت پہ ہوئی ہے؟
یا یہ بھی اک انداز ستانے کے لئے ہے؟
اے سادہ دلی! ہوش کی لے آنکھ ذرا کھول
وعدہ بھلا کیا ان کا نبھانے کے لئے ہے؟
اللہ بچائے یہ محبت ، یہ سیاست!
جو بات ہے وہ بات بنانے کے لئے ہے
مجبور محبت کو نہ مجبو ر کریں ا ور
کیا دل بھی کوئی چیز دکھانے کے لئے ہے
گہہ اشک شب غم،گہے آہ شب ہجراں
عنواں یہی بس میرے فسانے کے لئے ہے
ہر صبح غم شام میں مرنا مری تقدیر
ہر شام لگی دل کی بڑھانے کے لئے ہے
یہ ناز یہ انداز یہ شوخی یہ تبسم
دنیا کا ستم آج ہی ڈھانے کے لئے ہے؟
سرور ہے تری یاد میں جلنے کو شب و روز
یا شام و سحر ناز اٹھانے کے لئے ہے!
اور یہ دل مظلوم ستانے کے لئے ہے
یہ ذکروفا شوق بڑھانے کے لئے ہے
اور شوق جفا جان سے جانے کے لئے ہے
کیا آنکھ تری نم مری حالت پہ ہوئی ہے؟
یا یہ بھی اک انداز ستانے کے لئے ہے؟
اے سادہ دلی! ہوش کی لے آنکھ ذرا کھول
وعدہ بھلا کیا ان کا نبھانے کے لئے ہے؟
اللہ بچائے یہ محبت ، یہ سیاست!
جو بات ہے وہ بات بنانے کے لئے ہے
مجبور محبت کو نہ مجبو ر کریں ا ور
کیا دل بھی کوئی چیز دکھانے کے لئے ہے
گہہ اشک شب غم،گہے آہ شب ہجراں
عنواں یہی بس میرے فسانے کے لئے ہے
ہر صبح غم شام میں مرنا مری تقدیر
ہر شام لگی دل کی بڑھانے کے لئے ہے
یہ ناز یہ انداز یہ شوخی یہ تبسم
دنیا کا ستم آج ہی ڈھانے کے لئے ہے؟
سرور ہے تری یاد میں جلنے کو شب و روز
یا شام و سحر ناز اٹھانے کے لئے ہے!
