میں ہوں نقاد کہ جلاد مجھے تم جان لو پیارے
کہ ہوں اُستاد اِس فن کا مجھے پہچان لو پیارے

ہر اک ویب سائیٹ پہ میں ڈھونڈتا  ہوں اک نیا  شاعر
کہ گردن میں دبوچوں تو چھری تم تان لو پیارے

عروضِ شاعری میری طبیعت کا ہی خاصہ ہے
صلاح لو شعر میں مجھ سے یہ کہنا مان لو پیارے

غزل گوئی تو لگتا ہے کہ ہو الفاظ کا دنگل
نحیفِ ذار شاعر ہے نہ اُسکی جان لو پیارے

محبت تم نے کر ڈالا تو سمجھو کام چل نکلا
کہو گے شعر تم بھی ایک دن گر ٹھان لو پیارے

اگر فلموں کے گانے کے بجائے شعر کہنا ہو
تو مومن، ذوق و غالب ، میر کا دیوان لو پیارے

جگر آتش و حسرت اور نہ اقبال کی سوچو
ردیف و قافیہ پہلے ذرا آسان لو پیارے

مطالعہ بھی ضروری ہے اگر کچھ سیکھنا چاہو
کسی کا شعر اپنے نام سے نہ چھان لو پیارے

اگر ہو دل فسردہ تو نزولِ شعر ہوتا ہے
ذرا بستر پہ جا لیٹو وَ چادر تان لو پیارے

تمہیں بھی ہوگی حاصل سرَوری اک دن ذرا دم لو
ڈھنڈورا پیٹنے کا خود نہ اب خلجان لو پیارے

چھُپی خواہش ہے کہ اُستاد مانے کوئی پہچانے
قسم مجھ سے نہ کھلوا کر مرا ایمان لو پیارے

حشام کہتے ہیں کہ عقل و خرد احساس کو گھولو
ترنم میں ذرا نم کر کے مٹی سان لو پیارے
حشام احمد سید