نوائے حضرتِ اقبال کل شب
یہ سرگوشی میں مجھ سے کہ گئی ہے

شریعت سے ہوا ہے عین معدوم
شریعت اب شریت رہ گئی ہے

عبارت تھا عبودیت سے یہ عین
یہ نعمت تیل بن کر بہ گئی ہے

شریّت ، شر کی ہے اب پٹّہ داری
خُدائی وار کیا کیا سہہ گئی ہے