
کس یقیں کا بُرا گمان ہیں یہ؟
کس شریعت کے رازدان ہیں یہ؟
کون القاعدہ کا خالق ہے؟
کِس کی ایجاد طالبان ہیں یہ؟
ملک پر برق بن کے گرتے رہے
قوم کے خون کا نشان ہیں یہ
کیپیٹل ہلِ کے یہ نمائندے
بربریت کی داستان ہیں یہ
دیکھ کر ظلم ، چیختے بھی نہیں
بے بصر اور بے زبان ہیں یہ
ان سے وعدہ نہیں کوئی رب کا
بے حفاظت ہیں، بے امان ہیں یہ
آگ کی بارشوں کے گھیرے میں
دینِ اسلام کا زیان ہیں یہ
ان کے شر سے ہے خوف میں یہ زمیں
کس قیامت کا آسمان ہیں یہ
قہر کے تیر آزماتے رہے
جبر و اکراہ کی کمان ہیں یہ
زیرِ جبہ ہیں بم چھپائے ہوئے
کس طریقت کے خواجگان ہیں یہ؟
یار مسعود ، ان سے بچ کے رہو
یہ منافق ہیں ، بے ایمان ہیں یہ