- سرورق
- شعراء کی فہرست حروف تہجی سے
- م
- مسعود منور
- محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے
- سرورق
- غزلیات
- مسعود منور
- محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے
محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے
- مسعود مُنور
- مسعود منور , مسعود منور
-
Rating:




محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے
خدا کی بستیوں میں درد اور دہشت کا موسم ہے
لبوں کے کنج میں بوسوں کے آلوچے ہیں پژمردہ
دلوں میں ہجر کے آزار کی شدت کا موسم ہے
درندے چھپ گئے ہیں اوڑھ کر عشاق کی کھالیں
دیارِ شوق ہے ویران،اور وحشت کا موسم ہے
سنو! کوہ قاف سے یاجوج اور ماجوج اترے ہیں
جہانِ پیش گوئی میں عجب حیرت کا موسم ہے
جنودِ طالبانی کا یہ دینِ مدرسہ سوزی
یہ کس کذاب کے پیغام کی شہرت کا موسم ہے
ہوائے بے نوائی ملک بھر میں چلتی رہتی ہے
مگر باغِ حکومت میں بڑی عشرت کا موسم ہے
یہ ہیروں اور لیلائوں کے جھرمٹ آ گئے دیکھو
نگر میں عشق کی تبلیغ اور دعوت کا موسم ہے
چلو مسعود، اس کو جلوتوں سے آشنا کردیں
کہ اس کے آستاں پر رات کو خلوت کا موسم ہے
Spread The Word
2 Responses to "محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے" 
|
said this on 14 Jun 2009 12:47:43 PM CDT
سنو! کوہ قاف سے یاجوج اور ماجوج اترے ہیں
جہانِ پیش گوئی میں عجب حیرت کا موسم ہے
slam alaikum please check the "wazan" of misrae oola
instead you could say " Lo" instead of " Sunno"......its up to u
|
|
said this on 12 Sep 2009 5:07:28 AM CDT
ddddddddddddddddddddddddddddd
|

Author)