شہرِ امن اماں ، اے بلادِ جناں

تو کہاں برف زاروں کے نخوت نگر

اور پنجاب کے یہ مسافر کہاں

اوسلو، اوسلو

دور مشرق سے اُترا ترے درمیاں

رانجھنوں اور ہیروں کا اِک کارواں

آ کے مِل، اہلِ دل کے قبیلے سے تو

جن کی بانہوں میں محصور ہے کہکشاں

اوسلو، اوسلو

تیری مٹی میں تن کے خزانے بہت

سنگتوں کے قرینے ، بہانے بہت

تیرے آنگن میں رانجھے نہ مرزے مگر

شہرہ ء شہر غم کے فسانے بہت

تیری خلوت ، ہم آغوشیوں کی امیں

وصل کی رُت کے کافر زمانے بہت

عشق پیشہ فقیروں کی تادیب کو

چشمِ نم ناک کے تازیانے بہت

اوسلو ، اوسلو

اس نگر میں سنائی گئی تھی ہمیں

ہنرک ابسن کی لکھی ہوئی داستاں

اپنے کاندھوں پہ ہم ہیں اُٹھائے ہوئے

گُڑیا گھر کی کہانی کا کوہِ گراں

رشتوں ناتوں کا ا ب ہے تصور نیا

ہے نئی زندگی، اور تازہ جہاں

اوسلو، اوسلو

ہم نئی خاک میں فصلِ نو بو چکے

اپنے ماضی کے سب فلسفے کھو چکے

اک نئے رنگ اور روپ کی کھوج میں

اپنی سنولاہٹیں برف سے دھو چکے

جتنا رونا تھا ہم ہجر پر رو چکے

اب تو ہم اس نئے شہر کے ہو چکے

اوسلو، اوسلو