جانور  دشت میں کم ڈرتے ہوئے رہتے  ہیں  
       اور ہم شہروں میں بھی سہمے ہوئے رہتے ہیں             

مسئلے زیست کے  ہوں یا ہوں غم جاناں کے
بے  نواؤں   کے  سدا الجھے ہوئے  رہتے ہیں

عمر  بھر  جوڑتے  رہتے  ہیں تعلق سب سے
اور ہم خود سے سدا بچھڑے ہوئے رہتے ہیں

جاگتا  رہتا ہوں  میں  رات  کے  سناٹے میں
اور سب خواب میرے سوئے ہوئے رہتے ہیں

خود   کو    رکھتے    ہیں   بظاہر   تو   منظم  لیکن
اپنے  اندر  سے  سدا  ٹوٹے  ہوئے  رہتے ہیں