تم کیسی مسیحا ھو
کچھ بھی کہتی نہیں ھو
بس ایک ٹک دیکھے جاتی ھو
سب سنے ھی جاتی ھو
تمہیں بھلا اٍس سے کیا
ھیمن تو میرا ھے نا
الگ تو وہ مجھ سے ھوا ھے نا
ایک ماہ سے گھر نہیں آیا نا
مجھے یاد ھے
میں تب اُس سے ملی تھی
مجھے جب جانتا کوئی نہ تھا
میں گلستان ٍ محبت کی حسین کلی تھی
شہرٍ محبوباں کی ایک چہکتی بلبل تھی
تمہیں کیا بتاؤں میری مسیحا
میرا ھمین کیسا دکھتا تھا
یہ لمبا قد
سرخ ھنستا چہرا
باتوں میں شرارت
آنکھوں میں رمز
ایسے چلتا تھا مانو کہ دل میں اترتا تھا
مجھے یاد ھے ابھی تک
چرچ میں اُس نے مجھے پہلی بار دیکھا تھا
نیلے اسکارف میں سنہری بالوں کو چھپائے
 نیلی آنکھوں کو جھکائے
میں کچھ یسوع مسیح سے مانگ رھی تھی
اور میرا ھمین مجھے دیکھ رھاتھا
وہ مجھے یسوع سے مانگ رھا تھا
تم نہیں جانتی
میرا ھیمن بیس سال سے میرے اندر بستا ھے
میرے لہو میں بولتا ھے
میری روح میں گونجتا ھے
اُس نے مجھے شجر سایہ دار کیا
میرے مکاں کو گھر کیا
میری مسیحا کچھ تو کہو
وہ کیوں لوٹ کر نہیں آیا
کیوں میرے گھر میں بھی کوئی در نکل آیا
کیوں میری ھی محبت کو اجاڑنے کوئی آیا
میرا ھیمن کہتا تھا
وہ یسوع کا بھگت ھے
صرف پیار اور معافی پہ یقین رکھتا ھے
میری مسیحا
میں مسلمان عورت نہیں ھوں
جو خود کو چارحصوں میں بانٹ لوں
 اور
 اپنے حصے کی چادر اوڑھ کر سو رھوں
پر انتظار پورا کروں
میں تم جیسی نہیں ھوں
میری مسیحا
بس سنتی رھوں
دیکھتی رھوں
اور
گونگی رھوں  ۔۔۔۔۔