تمہیں یاد ھے
سبز روشوں پہ چلتے ھوئے
سبز بارشوں میں بھیگتے ھوئے
یونہی
محبت سے تمہیں میں دیکھتی جا رھی تھی
بے اختیاری میں تم مجھ سے یہ کہہ رھے تھے
سنو جانم
جاتے وقت
میری آنکھیں تم لے جانا
اور
اپنے ھونٹ مجھے دے جانا
اب سوچتی ھوں
تو
مسکرا دیتی ھوں
میری نظر سے جب تم خود کو دیکھتے ھو گے
تو
خود کو کیسے لگتے ھو گے
یہ دنیا کیسی دکھتی ھو گی
سنو
ایک بات کہوں
تمھاری لبوں سے جب بھی میں خود کو پکارتی ھوں
تو جیسے آسمانوں پہ اُڑنے لگتی ھوں
تم جیسا کہنے لگتی ھوں
تم جیسا ھونے لگتی ھوں
لیکن جانےکس لیئے
حیران ھے یہ دنیا
اور
کیوں دوست سب آپس میں یہ کہہ رھے ھیں
ھمارے لہجے رویئے سب ایک ھو رھے ھیں