مجھ سے کیا پوچھتی ھو میری مسیحا
میں کیوں ایسی ھوں
شاید تم یہ کہنا چاھتی ھو
میں کبھی اچھی نہ ھو سکونگی
تم کبھی مجھے بہلا نہ سکوگی
سنو میری مسیحا
میرے پاس تو بیٹھو
مجھے بتاؤ تو
کیا تم کو کوئی رات ایسی یاد ھے جس میں کوئی ستارہ نہیں تھا
ایسی کوئی رات جب سڑک کے کنارے اندھیرا اُگ آیا تھا
اور بارشوں نے جیسے لہو سرد کر دینے کی قسم کھا لی تھی
تم کیا جانو وہ کونسی رات ھوتی ھے
یہ وھی رات ھوتی ھے
جب اپنے گھر سے باہر نکل جانے کو کہہ دیا جاتا ھے
ھمیشہ کے لیئے بچھڑ جانے کو کہہ دیا جاتا ھے
کہی کھو جانے کو آزاد کر دیا جاتا ھے
میری مسیحا
تم کیا جانو
وہ رات جب کسی کے سر پہ چھت نہیں ھوتی
مانو جیسے اُس کے پاس کوئی سمت نہیں ھوتی
یوں
دھوپ میں جیسے آنکھوں کو کچھ دیکھائی نہ دے
آسمان کے ھوتے ھوئے بھی جیسے کوئی سایئبان نہ رھے
اور
زمین پر کہی کوئی اماں نہ ملے اور اُس کا کوئی ٹھکانہ نہ رھے
دنیا میں کوئی بھی جیسے انسان نہ رھے
تم کیاجانو
کیا ھوتا ھے جب سر پہ چھت نہ رھے
کوئی سایئبان نہ بنے
کوئی دیوار نہ بچے
میری مسیحا
یہ ایسا ھی ھے
جیسے ھر طرف جنگل کا قانون ھو
سانپوں کی پھنکار ھو
کالی بھیڑوں کا راج ھو
جیسے
کہی کسی کا خدا نہ ھو