- سرورق
- شعراء کی فہرست حروف تہجی سے
- پ
- پروین شاکر
- دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کُھلتیں
- سرورق
- غزلیات
- پروین شاکر
- دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کُھلتیں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کُھلتیں
- پروین شاکر
- پروین شاکر , پروین شاکر
-
Rating:




پروین شاکر
پروین شاکر اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہیں۔ کراچی میں 24 نومبر 1954ء کو پیدا ہوئیں۔ تعلیم پاکستان اور امریکہ میں حاصل کی۔ 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی۔ جن سے بعد میں طلاق لے لی۔ 26دسمبر 1994 کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں ، بیالیس سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جا ملیں۔
انکی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔
خوشبو، صدبرگ، خودکلامی، انکار اور ماہ تمام مجموعہ کلام ہیں۔
پروین شاکر استاد اور سرکاری ملازم بھی رہیں۔
شوقِ رقص سے جب تک اُنگلیاں نہیں کُھلتیں
پاؤں سے ہواؤں کے ، بیڑیاں نہیں کُھلتیں
پیڑ کو دُعادے کر کٹ گئی بہاروں سے
پُھول اِتنے بڑھ آئے ، کھڑکیاں نہیں کھلتیں
پُھول بن کی سیروں میں اور کون شامل تھا
شوخی صبا سے تو بالیاں نہیں کُھلتیں
حُسن کو سمجھنے کو عُمر چاہیے ، جاناں!
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کُھلتیں
کوئی موجہ شیریں چُوم کر جگائے گی!
سُورجوں کے نیزوں سے سیپیاں نہیں کُھلتیں
ماں سے کیا کہیں گی دُکھ ہجر کا ، کہ خودپر بھی
اِتنی چھوٹی عُمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں
شاخ شاخ سرگرداں ، کس کی جستجو میں ہیں
کون سے سفر میں ہیں ، تتلیاں نہیں کُھلتیں
آدھی رات کی چپ میں کس کی چاپ اُبھرتی ہے
چھپ پہ کون آتا ہے ، سیڑھیاں نہیں کُھلتیں
پانیوں کے چڑھنے تک حال کہہ سکیں اور پھر
کیا قیامتیں گزریں ، بستیاں نہیں کُھلتیں
پاؤں سے ہواؤں کے ، بیڑیاں نہیں کُھلتیں
پیڑ کو دُعادے کر کٹ گئی بہاروں سے
پُھول اِتنے بڑھ آئے ، کھڑکیاں نہیں کھلتیں
پُھول بن کی سیروں میں اور کون شامل تھا
شوخی صبا سے تو بالیاں نہیں کُھلتیں
حُسن کو سمجھنے کو عُمر چاہیے ، جاناں!
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کُھلتیں
کوئی موجہ شیریں چُوم کر جگائے گی!
سُورجوں کے نیزوں سے سیپیاں نہیں کُھلتیں
ماں سے کیا کہیں گی دُکھ ہجر کا ، کہ خودپر بھی
اِتنی چھوٹی عُمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں
شاخ شاخ سرگرداں ، کس کی جستجو میں ہیں
کون سے سفر میں ہیں ، تتلیاں نہیں کُھلتیں
آدھی رات کی چپ میں کس کی چاپ اُبھرتی ہے
چھپ پہ کون آتا ہے ، سیڑھیاں نہیں کُھلتیں
پانیوں کے چڑھنے تک حال کہہ سکیں اور پھر
کیا قیامتیں گزریں ، بستیاں نہیں کُھلتیں
Spread The Word
2 Responses to " دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کُھلتیں" 
|
said this on 28 Feb 2009 9:28:25 AM CST
bahut hi lajawab likha hai,,,,,,,,,khuda aap ko bahtar se bahtar likhne ki taufeeq de ........
"AMEEN YA RABBAL AALAMEEN"
|

Author)