میرے ساحر
تمہیں تو یاد ھو گا
بے اختیاریوں کے بڑے ھی گہرے بادل تھے
جو برستے تھے تو پھر تھمتے ھی نہ تھے
کتنے ھی سفر تھے جو کٹتے ھی نہ تھے
تب
مانگا تھا میں نے تمہیں بہت اپنے رب سے
پر
چاند ھی نہ نکلا شبٍ ہجراں کے سفر سے
سوچتی ھوں
جن کے پاس “ اٹی “ نہیں ھوتی
وہ بھلا کاتیں گے کیا
مصر کا بازار تو یوں بھی اُجڑ چکا
اور جو بازارِ عشق میں بے دام بِک جائیں
اُن کے پاس کیا رہ جاتا ھے
بھلا کوئی
بے اختیاری دے کر کیا خرید سکتا ھے ؟