- سرورق
- شعراء کی فہرست حروف تہجی سے
- ص
- صفدر ہمدانی
- قرب کا زہر مری روح میں زندہ ہے ابھی
- سرورق
- غزلیات
- صفدر ہمدانی
- قرب کا زہر مری روح میں زندہ ہے ابھی
قرب کا زہر مری روح میں زندہ ہے ابھی
- صفدر ہمدانی
- صفدر ہمدانی , صفدر ہمدانی
-
Rating:




صفدر ہمدانی
لندن میں مقیم شاعر،ادیب،صحافی،مرثیہ نگاراوربراڈکاسٹرہیں۔انکی غزلوں کا پہلا مجوعہ' کفن پہ تحریریں' 1974 میں لاہور میں شائع ہوا تھا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت کے بعد 2003 میں انکی کتابیں 'فرات کے آنسو'(مرثیوں کا مجموعہ) نورِ کربلا(عزائی شاعری پہ تحقیق) اور'معجزئہ قلم'(رباعیات ،قطعات و قصائد کا مجموعہ) فروری 2004 میں شائع ہوا. اگست 2006 میں انکا پہلا سفر نامہ'' تہران اور گر عالمِ مشرق کا جنیوا'' القمر آن لائن نے شائع کیا. 2007 میں مرثیے کی دو کتابیں ''زینت ہستی'' ماں کے موضوع پر لکھا ہوا مرثیہ اور ''عطائے رضا'' کے نام سے امام رضا علیہ السلام کا مرثیہ شائع ہوئیں.
قرب کا زہر مری روح میں زندہ ہے ابھی
چند دن اور مجھے تم نے تو سمجھا ہے ابھی
۔۔۔۔
ان چمکتے ہوئے رستوں پہ بھی چل لیں گے مگر
راستہ چلتے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے ابھی
۔۔۔۔۔
آئینہ ٹوٹ کے بکھرا تو خدا رونے لگا
کون روئے گا یہ انسان جو بکھرا ہے ابھی
۔۔۔۔۔
چاندنی چہرے پہ احساس سجا کر نکلی
مجھکو چہرے پہ لہو رکھ کے نکلنا ہے ابھی
۔۔۔۔۔
گوشت کی آنکھ میں بینائی کا دھوکہ تو نہ دے
یہ چمکتا ہوا پتھر بھی پگھلنا ہے ابھی
۔۔۔۔۔
سِل گئے ہونٹ لرزتی ہوئی دیواروں کے
کل کا دن اور ترے شہر میں رہنا ہے ابھی
۔۔۔۔۔
تم جسے کہتے ہو انساں کی مکمل صورت
وہ تو انسان کا ڈھلتا ہوا سایہ ہے ابھی
۔۔۔۔۔
ڈوب نہ جاؤں میں آواز کی دنیا میں کہیں
جسم اس شور کی دنیا سے تو نکلا ہے ابھی
۔۔۔۔۔
ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا صفدر
کیا خبر شہر میں اب اور کیا ہونا ہے ابھی
Spread The Word
1 Response to "قرب کا زہر مری روح میں زندہ ہے ابھی" 
|
said this on 28 Jul 2008 8:56:24 AM CST
آئینہ ٹوٹ کے بکھرا تو خدا رونے لگا
کون روئے گا یہ انسان جو بکھرا ہے ابھی bohut hi khoobsuret sher
|

Author)