- سرورق
- نظم
- کنور امتیاز احمد
- خود کو کھویا تھا تو یہ بات کہاں تھی معلوم
- سرورق
- شعراء کی فہرست حروف تہجی سے
- ک
- کنور امتیاز احمد
- خود کو کھویا تھا تو یہ بات کہاں تھی معلوم
خود کو کھویا تھا تو یہ بات کہاں تھی معلوم
- کنور امتیاز احمد
- کنور امتیاز احمد , کنور امتیاز احمد
- Unrated
سب میں آتی ھے نطر اپنی ھی صورت مجھ کو
یعنی اب ھونے لگی خود سے محبت مجھ کو
خود کو کھویا تھا تو یہ بات کہاں تھی معلوم
پڑ بھی سکتی ھے کبھی اپنی ضرورت مجھ کو
اُس سے جب چاھوں ، جہاں چاھوں ، میں مل سکتا ھوں
شکر اُس کا جو ملی اتنی اجازت مجھ کو
میں نے اک دور گزارا ھے یہاں بھی ایسا
اٍسی دنیا میں میسر رھی جنت مجھ کو
ایک لمحہ ، کوئی خود سے بھی اُدھر اک لمحہ
اپنے ھوتے ھوئے ھوتی نہیں خلوت مجھ کو
شعر کہنا کوئی آسان نہیں ھے لیکن
کیا کروں اٍس میں نظر آئی سہولت مجھ کو
یعنی اب ھونے لگی خود سے محبت مجھ کو
خود کو کھویا تھا تو یہ بات کہاں تھی معلوم
پڑ بھی سکتی ھے کبھی اپنی ضرورت مجھ کو
اُس سے جب چاھوں ، جہاں چاھوں ، میں مل سکتا ھوں
شکر اُس کا جو ملی اتنی اجازت مجھ کو
میں نے اک دور گزارا ھے یہاں بھی ایسا
اٍسی دنیا میں میسر رھی جنت مجھ کو
ایک لمحہ ، کوئی خود سے بھی اُدھر اک لمحہ
اپنے ھوتے ھوئے ھوتی نہیں خلوت مجھ کو
شعر کہنا کوئی آسان نہیں ھے لیکن
کیا کروں اٍس میں نظر آئی سہولت مجھ کو
