میرے ساحر
یاد ھے نہ
تم نے بھی تو
مجھے راتوں کے پچھلے پہر سلگتے دیکھا تھا
ہجر زدہ شاخٍ بدن کو ٹوٹتے دیکھا تھا
میں آج بھی
اُسی طرح
تمھارے حصار میں سمٹی
اپنے احساس سے لپٹی
روشنی کے گھر میں رھتی ھوں