چھوٹی چھوٹی باتوں کی بڑی انمول یادیں ھیں
کیا کہے تم سے کہ اب یہ کیسی باتیں ھیں
کتنا کہا تھا تم سے
ھمیں
اپنی عادت نہ ڈالو
دیکھو تو
سب یہی پوچھتےھیں
کیسی ھو
کیا کرتی رھتی ھو
کہی دٍکھتی ھی نہیں ھو
اب تم ھی کہو
کیا کہوں
کیسے بتاؤں
کہ
میں تو خود کو بھی
تمھارے بغیر کہی دکھتی نہیں ھوں