ماں تمہیں تو یاد ھو گا کہ آج میرا جنم دن ھے
تیرا بیٹا تیرا شیر آج پندرہ برس کا ھو گیا ھے
اور تجھ سے بچھڑے پورے دو برس بیت گئے ھے
سوچتا ھوں توں کیسی دٍکھتی ھو گی
سفید بالوں میں بھی کتنی جچتی ھو گی
صدرہ ،ثمرہ اور بابا سے یونہی الجھتی ھو گی
توں بھی مجھے اپنے من کے دیئے میں دیکھتی تو ھو گی
دیکھ کے مجھے قد میں بڑا پھر اشکبار توں ھوگئی ھو گی
تمہیں یاد ھے نا ماں توں تو جانتی ھو گی
جب تم نے تیرہ برس کے بچے کو گھر کا بڑا کہا تھا
اور بابا کی جگہ اٰسے ھی محازٍ جنگ پر بھیج دیا تھا
جب میں تڑپ تڑپ کر رو دیا تھا
اور تم نے خالی باورچی خانہ دکھا دیا تھا
پھر بے قراری سے بازؤں میں چھپا لیا تھا
مجھے اب بھی یاد ھے جو توں نے کہا تھا
یہ روٹی اور بھوک کی جنگ ھے بیٹا
عزت اور چاردیواری کی جنگ ھے بیٹا
بے گور لاشوں اور کفن کی جنگ ھے بیٹا
جو غیروں نے سازش بوئی تھی ھمارے گھر
اب وہی فصل کاٹنے کی جنگ ھے بیٹا
ماں مجھے یوں لگا تھا
جیسے تیرا آنچل بادلوں کے ساتھ ھی آگیا تھا
عمر بھر کے لیئے دعاؤں کا سائیبان ھو گیا تھا
اب بھی اکثر تم مجھ سے باتیں کرتی ھو
مجھے میرا منصب کام یاد دلاتی ھو
اور کہتی ھو میرے شہزادے
ھماری زمین پر شاعراور موسیقار مر رھے ھے
امن کے پیامبر، فلاسفر اور قلمکار مر رھے ھے
جانتی ھوں تجھے ڈاکٹر انجینیر کچھ تو بننا ھے
پر جہاں نہ ھو امن وہاں کیا کسی نے بننا ھے
جا میرے بچے اور بچالے جو بچا سکے کچھ تو
اور ماں میں چلا تو آیا تھا سب کچھ چھوڑ کے
پر جی اب کرتا ھے لگ جاؤں گلے تیرے دوڑ کے
اور بھی ھے یہاں مجھ جیسے غریب الوطن
ذات پات کے سب اچھے پر نہیں قبائے تن
ماں یاد تجھے میں دن رات کرتا ھوں
اب تو خواب میں اکثر ڈر جاتا ھوں
کیسے بتاؤں تمہیں بارود کی بو میں دم میرا گھٹتا ھے
توں ھی بتا لاشوں کے ساتھ کوئی کیسے رہ سکتا ھے
طوقٍ غلامی کوئی کب تک پہن سکتا ھے
سکوتٍ جبر کوئی کب تک روک سکتا ھے
میری ماں میری اچھی ماں
آج میرا کہا کر دو
میرے جنم دن پر مجھے ایک تحفہ دے دو
مجھکو میری عمر اور میرے خواب دے دو