- سرورق
- شعراء کی فہرست حروف تہجی سے
- ف.
- فیض احمد فیض
- درد آئے گا دبے پاؤں۔۔۔۔۔۔
- سرورق
- نظم
- فیض احمد فیض
- درد آئے گا دبے پاؤں۔۔۔۔۔۔
درد آئے گا دبے پاؤں۔۔۔۔۔۔
- فیض احمد فیض
- فیض احمد فیض , فیض احمد فیض
- Unrated
فیض احمد فیض
فیض احمد فیض (1911 -1984) کوغالب اور اقبال کے بعد اردو کاسب سے عظیم شاعر تصور کیا جاتا ہے۔ آپ 1911 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انجمن ترقی پسند تحریک کے فعال رکن اور ایک ممتاز کمیونسٹ تھے۔1951میں آپ كو راولپنڈی سازش كیس میں معاونت كے الزام میں گرفتار كر لیاگیا۔ آپ كو 2 اپریل 1955 كو رہا كر دیا گیا ۔ زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لكھی گئیں۔
فیض احمد فیض کی مکمل شاعری
اور کچھ دیر میں ، جب پھر مرے تنہا دل کو
فکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرے
دردآئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغ
وہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے
شعلۂ درد جو پہلو میں لپک اٹھے گا
دل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گا
حلقۂ زلف کہیں، گوشۂ رخسار کہیں
ہجر کا دشت کہیں، گلشنِ دیدار کہیں
لطف کی بات کہیں، پیار کا اقرار کہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل سے پھر ہوگی مری بات کہ اے دل اے دل
یہ جو محبوب بنا ہے تری تنہائی کا
یہ تو مہماں ہے گھڑی بھر کا، چلا جائے گا
اس سے کب تیری مصیبت کا مداوا ہوگا
مشتعل ہو کے ابھی اٹھّیں گے وحشی سائے
یہ چلا جائے گا، رہ جائیں گے باقی سائے
رات بھر جن سے ترا خون خرابا ہوگا
جنگ ٹھہری ہے کوئی کھیل نہیں ہے اے دل
دشمنِ جاں ہیں سبھی، سارے کے سارے قاتل
یہ کڑی رات بھی ، یہ سائے بھی ، تنہائی بھی
درد اور جنگ میں کچھ میل نہیں ہے اے دل
لاؤ سلگاؤ کوئی جوشِ غضب کا انگار
طیش کی آتشِ جرار کہاں ہے لاؤ
وہ دہکتا ہوا گلزار کہاں سے لاؤ
جس میں گرمی بھی ہے ، حرکت بھی توانائی بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکر
منتظر ہوگا اندھیرے کی فصیلوں کے اُدھر
ان کو شعلوںکے رجز اپنا پتا تو دیںگے
خیر، ہم تک وہ نہ پہنچیں بھی ، صدا تودیں گے
دور کتنی ہے ابھی صبح ، بتا تو دیں گے

منٹگمری جیل
یکم دسمبر 54ء
فکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرے
دردآئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغ
وہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے
شعلۂ درد جو پہلو میں لپک اٹھے گا
دل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گا
حلقۂ زلف کہیں، گوشۂ رخسار کہیں
ہجر کا دشت کہیں، گلشنِ دیدار کہیں
لطف کی بات کہیں، پیار کا اقرار کہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل سے پھر ہوگی مری بات کہ اے دل اے دل
یہ جو محبوب بنا ہے تری تنہائی کا
یہ تو مہماں ہے گھڑی بھر کا، چلا جائے گا
اس سے کب تیری مصیبت کا مداوا ہوگا
مشتعل ہو کے ابھی اٹھّیں گے وحشی سائے
یہ چلا جائے گا، رہ جائیں گے باقی سائے
رات بھر جن سے ترا خون خرابا ہوگا
جنگ ٹھہری ہے کوئی کھیل نہیں ہے اے دل
دشمنِ جاں ہیں سبھی، سارے کے سارے قاتل
یہ کڑی رات بھی ، یہ سائے بھی ، تنہائی بھی
درد اور جنگ میں کچھ میل نہیں ہے اے دل
لاؤ سلگاؤ کوئی جوشِ غضب کا انگار
طیش کی آتشِ جرار کہاں ہے لاؤ
وہ دہکتا ہوا گلزار کہاں سے لاؤ
جس میں گرمی بھی ہے ، حرکت بھی توانائی بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکر
منتظر ہوگا اندھیرے کی فصیلوں کے اُدھر
ان کو شعلوںکے رجز اپنا پتا تو دیںگے
خیر، ہم تک وہ نہ پہنچیں بھی ، صدا تودیں گے
دور کتنی ہے ابھی صبح ، بتا تو دیں گے

منٹگمری جیل
یکم دسمبر 54ء
