شاعری آن لائن

اعتبار ساجد


(Page 1 of 3)   
« Prev
  
1
  2  3  Next »

 شاعر کی مزید شاعری

ہمارے بھولنے والے بھی اس عذاب میں ہیں
یہی ہم سوچتے تھے آج سے کچھ سال پہلے بھی
میں چاہتا تھا اسے اور وہ کسی کا تھا
میں ترا شہر ہوں مجھے مسمار تو ہی کر
میرِ خراب حال سا اپنا بھی حال کیا کریں
مرے اجنبی ، مرے آشنا!
اب امتحاں کا نتیجہ بھی مجھ کو دیکھنے دو
ہمیں معلوم ہے پرواز ہم پنجرے میں کرتے ہیں
جہاں رونق نہیں ہوتی وہ گھر اچھا نہیں لگتا
جہاں رونق نہیں ہوتی وہ گھر اچھا نہیں لگتا
اور اپنی موت بھی آئے تو بس اسی کے لئے
خدا مجھے یہ تحمل یہ حوصلہ بھی نہ دے
بخیہ گری کے شوق میں زخم نئے لگا دئیے
ان دنوں پیاس بہت عام نہیں ہوتی تھی
اب دل کو اعتبارِ ہوا بھی نہیں رہا
ہم نے کوئی شکایت کی ہے ؟ بے شک جان ہماری ہے
یہ شاعری ہے ، عجب معجزے دکھاتی ہے
کیسے تحریر محبت کے مقالے ہوں گے
منزلیں نازاں ہوں جس پر اک سفر ایسا تو ہو
کیسے آگاہ کوئی ہوگا ہنر سے اس کے
وہ گلی کوچے ، وہ بازار بہت یاد آئے
ایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھے
ہم فقط حرمتِ دستارِ سخن رکھتے ہیں
اسی میں خوش ہیں کہ حسنِ فضا ہمارا ہے
خموشیوں کا یہی انتقام تجھ سے رہے
میں غبار ہوں تو بکھیر دو مجھے راہ میں
بچھڑ کر بھی ترے چہرے پہ اطمینان کیسا ہے
تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں ، مرے دل سے بوجھ اتار دو
مجھ کو محسوس کرو روح کی گہرائی میں
کل یہ کہتی تھیں بچھڑ نا تمہیں منظور نہیں
مرے شعر ، میری صداقتیں ، مری دھڑکنیں ، مری چاہتیں
اسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہے
کڑا ہے اب کے ہمارا سفر دعا کرنا
بچھڑے گا تو پھر یاد بھی آئے گا بہت وہ
دل پہ ترے فراق کے صدمے بھی وہ نہیں رہے
کہیں آگ سازشوں کی ، کہیں آنچ نفرتوں کی
دیوان بھی مرا ، تو ہر اک سے چھپائے گا
دل کو تھا جس بات کا دھڑکا وہ نوبت آگئی
میں تو مرد ہوں اور وہ عورت ذات اسے سمجھا دینا
ہم سے ہم کلام تھا آخر شب کے دشت میں
No popular authors found.
No popular articles found.