شاعری آن لائن

ماجد صدیقی


(Page 1 of 4)   
« Prev
  
1
  2  3  4  Next »

 شاعر کی مزید شاعری

چیتے مل کر خون سے پیاس بجھانے نکلے
تتلیوں پھولوں کی بزم آرائیاں
پل بھر میں دھنک جاتے ہیں ابدان کئی
ہاتھ میں بچے کے تھا کھلونا چھین لیا
مجھ سے میرے گھر تلک کے بام و در ناراض ہیں
دے دی ہے اسی حبس نے پیڑوں کو زباں اور
کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے
چیتے مل کر خون سے پیاس بجھانے نکلے
ماد آتش سے پر اپنے سمندر دیکھنا
ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں
سانپ کو ہاتھ میں پکڑا پر ڈھیلے انداز سے پکڑا ہے
جو کہنا ہے، پہلے کیوں نہ پرکھا جائے
ملے جواب نہ اِس طرح کے سوالوں کا
دل بالک، من جائے گا بہلانے سے
نبض جس دم ٹوٹ جائے گی، گھڑی رک جائے گی
شام کوئی اس کی آنکھوں میں کاجل جیسی شام
خدا بھی میرے اندر آ بسا ہے
پھول چاہت کے کچھ ایسے بھی کھلا ئے جائیں
خاموشی وجدان، خبر لائے گی کچھ اور
سنی بھی میری کہانی تو درمیاں سے سنی
یہ بات اور ہے جاری تھا جو سفر نہ رہا
کیا جانوں کیا کیا ہیں عقیدے خام مرے
یزیدِ وقت نے جوروستم کی انتہا کردی
جگ بیتے ہیں بستی کو بیدار ہوئے
کہ سانس سانس کے تیور الا جیسے ہیں
وہ پیڑ پیڑ پہ آکاس بیل چھوڑ گیا
بدن ، پیہم ادھڑتا جا رہا ہے
کس کا نوحہ کون کب لِکھے یہاں
آج بھی جبر کے ہیں زمانے وہی
یہ کیا ہوا کہ بجز اشک نم ہوا میں نہیں
کب کھڑی کھیتیاں پھر اجڑنے لگیں
مردود، بہت مقبول ہوا
ہمارے شہر کا موسم عجب ہے
جو اوج نشیں ہے مرا آزار نہ جانے
خبروں پر مامور ہوئیں جتنی بھی زبانیں کالی ہیں
اسی سے تابِ سفر عزم کی سپاہ میں ہے
خیمہ مگر اڑا کسی چڑیا کی جان کا
عمر ڈھل جانے لگی اور قرض بڑھ جانے لگے
دے شرف تخت، دے رزالت بھی
وہ  کہ ڈسا جانے  والا   ہے،  سنبھل  جاتا ہے
No popular authors found.
No popular articles found.