فواد احمد
شاعر کی مزید شاعری
ہمارے آگے کبھی اس کا نام مت لینا
نظر سے کس کے لئے آپ نے گرایا ہوں
کہتے ہیں پھر بھی لوگ کنوارا ہے آسماں
یہ بوجھ آنسوں سے سنبھالا نہ جائے گا
تمہاری موت پہ اللہ میاں سے کچھ نہ کہا
کوئی نہیں ہے یہاں آج میری ماں کی طرح
مجنوں بہت ہیں شہر میں صحرا نہیں کوئی
پھر اس کی قبر کو آہوں سے اپنی بھر دوں گا
کاندھوں پہ سمندر کو اٹھالاتے ہیں دریا
اب بھی میں تری یاد سے غافل تو نہیں ہوں
ابھی مجھ پہ طاری وہی اک نشہ ہے تمہیں کیاپتہ ہے تمہیں کیا خبر
اس دھوپ کی بستی میں کہاں چاند کا مسکن
یوں وہ سینہ سے لگا ہے مسکرا کر خواب میں
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ
ہر طرف پھر رات کا آنچل کوئی لہرائے گا
