شاعری آن لائن

فواد احمد


(Page 1 of 3)   
« Prev
  
1
  2  3  Next »

 شاعر کی مزید شاعری

تمہارے سامنے بے اختیار ہے سورج
کہاں سے سیکھ کے آتے ہیں گفتگو دریا
ہمارے پاس ہے یہ آسماں کی نیلی جھیل
ہمارے لئے رات کا یہ نگر ہے
ہمارے لئے رات کا یہ نگر ہے
ہمارے آگے کبھی اس کا نام مت لینا
نظر سے کس کے لئے آپ نے گرایا ہوں
وہ ایک گیت جو میں گنگنا رہا تھا ابھی
کسی ستارہ سے آنکھیں لڑا رہا ہوگا
تب کہیں گیت کا آغاز کیا ہے میں نے
کہتے ہیں پھر بھی لوگ کنوارا ہے آسماں
آنکھوں سے تیرے رنگ چراتا ہے آسماں
دن رات بس زمین کو تکتا ہے آسماں
اک پیالہ جستجو تھی سمندر ملا مجھے
تمہارے بعد یہاں میں بہت ذلیل ہوا
یہ بوجھ آنسوں سے سنبھالا نہ جائے گا
تمہاری موت پہ اللہ میاں سے کچھ نہ کہا
کوئی نہیں ہے یہاں آج میری ماں کی طرح
مسرتوں سے کبھی سر ہوا نہ دل کا درخت
میں نے تمہارے عشق کا دعوی نہیں کیا
مجنوں بہت ہیں شہر میں صحرا نہیں کوئی
پہلے کی طرح آج بھی تو سب سے حسیں ہے
پھر اس کی قبر کو آہوں سے اپنی بھر دوں گا
کاندھوں پہ سمندر کو اٹھالاتے ہیں دریا
اب بھی میں تری یاد سے غافل تو نہیں ہوں
دنیا تو فقط اہلِ تجارت کی جگہ ہے
اس شہر میں ہے حسن کا دستور نرالا
ابھی مجھ پہ طاری وہی اک نشہ ہے تمہیں کیاپتہ ہے تمہیں کیا خبر
اس دھوپ کی بستی میں کہاں چاند کا مسکن
گو اہل نہ تھی اس کی کسی طور مری خاک
سنتا نہیں اب کوئی سمندر کی کہانی
وہ شہر میں نظر آیا کہیں نہ گاں میں
یہ انتظار کے سارے دئے بجھا دوں گا
پڑھی ہے میں نے محبت کی یہ کتاب بہت
یوں وہ سینہ سے لگا ہے مسکرا کر خواب میں
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ
ہر طرف پھر رات کا آنچل کوئی لہرائے گا
تو اس دنیا میں کوئی کیا رہے گا
مگر یہ دل یونہی تنہا رہے گا
مری زمیں پہ چلے گی جناب کی مرضی
No popular authors found.
No popular articles found.