شاعری آن لائن

طارق بٹ


(Page 1 of 3)   
« Prev
  
1
  2  3  Next »

 شاعر کی مزید شاعری

تنہا رہنا ٹھیک نہیں ہے
اپنی آنکھوں میں اب رت جگے ہیں نہ خواب
جب ہوئی محفلِ سخن ویراں
مثال ہے کہیں ایسی فریب کاری کی
اس کے تن کی کپاس کیسی ہے
دل نہ مانے جو ترا مجھ سے ملاقات نہ کر
اور پھر خود کو ملامت کرنا
خود کی پہچان کا مرحلہ اور ہے
کج کلاہانہ تھا تیرا فن اے ذکا
بہتے دریا تھے کناروں کی طرف دیکھتے کیا
وہ اک فسانہ سا گذرا جو درمیاں اپنے
نظروں میں جو پیکر کوئی زنجیر ہوا تھا
یہ طورِ زندگی ہے تو، دشوار زندگی
گرہ لگاتے ریشم سے رشتوں کے تانے بانے میں
اگروہ محبت کا اقرار کرتی
 فروری کی کوئی رات تھی
کہتے ہیں تجھے حرف کا ادراک بہت ہے
لفظ کیا کیاہیں دسترس میں مری
زمزمہ اک عجیب سا پھوٹا
کوئی پل ہے کہ مٹتا ہے میر اوجود
تجھے لکھا ہے بہت میں نے اپنے گیتوں میں
وں ہی سہی اب تم سے
ان قبروں پر اب تک جانے
خا موش نہیں ہو
ابا جی!
وادی میں اتر تے ہی
اک بوند ہے پانی کی
جتنے سچہیں اِس دنیا میں
کفِ ا فسوس ملنے سے،تو کچھ حاصل نہیں ہوتا
دل پھٹا جاتا ہے اب دکھ کی دبازت سے ترا
آ بھی جا کہ راہوں میں
سچ تو یہ ہے!
ھے کیا کیا نہ خوابوں کے موتی سنبھالے
دیکھ میری طرف
منتظر جس کے تھے، وہ آ ہی گیا
آہ!
آہ!
ایک تصویر بنی جاتی ہے دھیرے دھیرے
اس قدر انتظار
لب ترستے ہیں اک حرفِ اظہار کو
No popular authors found.
No popular articles found.