شاعری آن لائن

ناہید ورک

(Page 1 of 3)   
« Prev
  
1
  2  3  Next »

 شاعر کی مزید شاعری

دم بخود سی بیٹھی ہے میرے بام کی آہٹ
تیرے میرے تعلق کی اب
اس خوشبوئے خیال کو تو کائنات کر
وہ ہم مزاج ہے نہ مرا ہم خیال ہے
ہم بھی کیسے ناداں تھے کس خوشی کی خواہش کی
دلِ آئینہ کو ذرا غور سے دیکھنا تو
لیکن عجیب لطف ہے اس اضطراب میں
اک تھکن رفاقت کی اک تھکن زمانے کی
میرے ساتھ میری ذات رہنے دیتے
غم رسیدہ روح کی زنجیر
مری طرزِ نوا چپ ہے
ہمیں کچھ نہ اس کے سِوا چاہیے
چاہتوں کو آپ میری آزما کر دیکھیے
یا خدا ان کو سکھا علم و ہنر کی باتیں
بات اتنی سی ہے، دل برا کیا کریں
زندگی! ترے در سے ہم بھی معتبر جاتے
میں تیری سنگت میں بھی تنہا تھی
دیکھے ہے تری راہ ثمن زار کا موسم
ہر طرف آپ ہی کو پائیں گے
جو مرے دل کی یہ حویلی ہے
بیٹھی ہوں منتظر میں تو کب سے جواب کی
نہیں ہے تو تری آواز دیکھتی ہوں میں
زندگی کا اور بھی کچھ راز افشا ہو گیا
کیوں پھر تری انکار کی عادت نہیں جاتی
بے یقیں شاموں کی تنہائی میں اب بھی
کبھی تو وہ بھی محبت کا حق ادا کرتے
ہیں مانگیں مجھ سے حساب آنکھیں
نہ اب اتنی ستا، اتنی بے رخی اچھی نہیں لگتی
ہر طرف آشنائیاں تیری
رنگ سرمایہ ہے خوشبو مرا ساماں ہمدم
بارشوں کی زد میں ہوں
دل میں چبھتے خار سہانے یاد آئے
ہر پل دمک رہی ہوں میں ان کی روشنی سے
غم کو آتا ہے ہنر دل مرا بہلانے کا
پھر کوئی رستہ ہوا غم سا ہے
اتنی بے کلی کیوں ہے
میرے ہونٹوں کو لگی چپ تب سے ہے
زندگی کو گنگنانا چاہتی ہوں
بے رنگ دن
اس طرح تجھ کو پیار کرتی ہوں
No popular authors found.
No popular articles found.