ناہید ورک
شاعر کی مزید شاعری
دم بخود سی بیٹھی ہے میرے بام کی آہٹ
اس خوشبوئے خیال کو تو کائنات کر
وہ ہم مزاج ہے نہ مرا ہم خیال ہے
ہم بھی کیسے ناداں تھے کس خوشی کی خواہش کی
لیکن عجیب لطف ہے اس اضطراب میں
اک تھکن رفاقت کی اک تھکن زمانے کی
چاہتوں کو آپ میری آزما کر دیکھیے
یا خدا ان کو سکھا علم و ہنر کی باتیں
بات اتنی سی ہے، دل برا کیا کریں
زندگی! ترے در سے ہم بھی معتبر جاتے
میں تیری سنگت میں بھی تنہا تھی
دیکھے ہے تری راہ ثمن زار کا موسم
بیٹھی ہوں منتظر میں تو کب سے جواب کی
نہیں ہے تو تری آواز دیکھتی ہوں میں
زندگی کا اور بھی کچھ راز افشا ہو گیا
کبھی تو وہ بھی محبت کا حق ادا کرتے
نہ اب اتنی ستا، اتنی بے رخی اچھی نہیں لگتی
رنگ سرمایہ ہے خوشبو مرا ساماں ہمدم
دل میں چبھتے خار سہانے یاد آئے
ہر پل دمک رہی ہوں میں ان کی روشنی سے
غم کو آتا ہے ہنر دل مرا بہلانے کا
میرے ہونٹوں کو لگی چپ تب سے ہے
