شاعری آن لائن

کلیم احسان بٹ


(Page 1 of 5)   
« Prev
  
1
  2  3  4  5  Next »

 شاعر کی مزید شاعری

کسے خبر تھی کہ اتنا اداس کر دے گا
کسے خبر تھی کہ اتنا اداس کر دے گا
ہاتھ کی لکیرو ں سے زائچہ نکل آیا
ہاتھ کی لکیرو ں سے زائچہ نکل آیا
وہ کہا نی تھی ایک جگنو کی
بیٹھا ہوا ہوں جان سے بے زار دوستا
ایک رونق اس بہانے سے رہی
میں در یار تک نہیں آیا
غیر ہو تا ادھر تو کیا ہوتا
اک دھوپ بھرا شہر مرے سامنے پھر تھا
راستے میں رات کافی ہو گئی
ہم اس سے اختلاط کی حد سے گزر گئے
آدمی کس کے لیے یا ں روز و شب مصروف ہے
کہ غم آسان ہوتا جا رہا ہے
قسمت میں اس مکان کی جالے لکھے گئے
اپنے لہجے میں ترے منہ کی زباں کیسے ہو
ایک گھٹن تھی باقی اس کی صحبت میں
کوئی تو صورت تعمیر نکلے
کتنی غزلیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں
کہیں پانی کے رستے میں بھی گھر تعمیر کرتے ہیں
باتیں ، لہجہ یا د نہیں ہے
وہ گفتگو تما م حو ا لو ں کے سا تھ تھی
تب جا کے مری جان یہ دو بول کہے ہیں
نفرت بھی کچھ نہیں ہے محبت بھی کچھ نہیں
ہر ایسے حکم سے انکار کر دیا جائے
آج وہ مہربان لگتا ہے
تم ہمارے پاس تھوڑی دیر تو ٹھہر ا کرو
ز ند گی ر ا ئگا ں گزرتی ہے
چین آ لے تو بات کرتے ہیں
اس کو دیکھے ہوئے زمانہ ہوا
یا دھوپ میں مت موم کا سامان کھلا رکھ
کہ سر د رات کے ڈھلنے میں د یر لگتی ہے
کہ عکس مہ تو ابھی شیشہ گر کی قید میں تھا
لوٹ کر دیکھا تو اس کی آنکھ میں آ نسو بھی تھے
میری تاریخ میں لکھا ہے بغاوت کرنا
کیسے گزرے گا یہ ہفتہ دیکھ رہے ہیں
آسمانوں کو ترے گھر کی زمیں کیسے کریں
وہ تو کونے میں جا کے بیٹھ گیا
اس کی جانب سبز پرندہ لے جائے گا
کھل گئے ہیں خیال کے پرچم
No popular authors found.
No popular articles found.