کلیم احسان بٹ
شاعر کی مزید شاعری
کسے خبر تھی کہ اتنا اداس کر دے گا
کسے خبر تھی کہ اتنا اداس کر دے گا
ہاتھ کی لکیرو ں سے زائچہ نکل آیا
ہاتھ کی لکیرو ں سے زائچہ نکل آیا
وہ کہا نی تھی ایک جگنو کی
بیٹھا ہوا ہوں جان سے بے زار دوستا
ایک رونق اس بہانے سے رہی
غیر ہو تا ادھر تو کیا ہوتا
اک دھوپ بھرا شہر مرے سامنے پھر تھا
راستے میں رات کافی ہو گئی
ہم اس سے اختلاط کی حد سے گزر گئے
آدمی کس کے لیے یا ں روز و شب مصروف ہے
کہ غم آسان ہوتا جا رہا ہے
قسمت میں اس مکان کی جالے لکھے گئے
اپنے لہجے میں ترے منہ کی زباں کیسے ہو
ایک گھٹن تھی باقی اس کی صحبت میں
دل کی باتیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں
- کلیم احسان بٹ
- کلیم احسان بٹ , کلیم احسان بٹ
- Unrated
کتنی غزلیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں
کہیں پانی کے رستے میں بھی گھر تعمیر کرتے ہیں
باتیں ، لہجہ یا د نہیں ہے
وہ گفتگو تما م حو ا لو ں کے سا تھ تھی
تب جا کے مری جان یہ دو بول کہے ہیں
نفرت بھی کچھ نہیں ہے محبت بھی کچھ نہیں
ہر ایسے حکم سے انکار کر دیا جائے
تم ہمارے پاس تھوڑی دیر تو ٹھہر ا کرو
ز ند گی ر ا ئگا ں گزرتی ہے
چین آ لے تو بات کرتے ہیں
اس کو دیکھے ہوئے زمانہ ہوا
یا دھوپ میں مت موم کا سامان کھلا رکھ
کہ سر د رات کے ڈھلنے میں د یر لگتی ہے
کہ عکس مہ تو ابھی شیشہ گر کی قید میں تھا
لوٹ کر دیکھا تو اس کی آنکھ میں آ نسو بھی تھے
میری تاریخ میں لکھا ہے بغاوت کرنا
کیسے گزرے گا یہ ہفتہ دیکھ رہے ہیں
آسمانوں کو ترے گھر کی زمیں کیسے کریں
وہ تو کونے میں جا کے بیٹھ گیا
اس کی جانب سبز پرندہ لے جائے گا
