عارف فرہاد
شاعر کی مزید شاعری
یہ نقش روزِ ازل کا سراغ مانگتا ہے
سمندر کی آنکھوں میں دکھ بھر چکا ہے
میں یہ سمھا کہ تیری آنکھوں میں
آج پھر اے یار تم اِس دل میں ہو آئے ہوئے
اُتر گئے مرے وہم و گمان کے پردے
مرے شانوں پہ دیکھو سر مرا اب بھی سلامت ہے
کبھی اِس وجود میں ڈوب کر کوئی ایک گوہر اُچھال دیکھ
مگر اِس آنکھ میں بھی روشنی انا کی تھی
ہم کہ صحرا ہیں سمندر دیکھتے
کیوں موت کا خیال سکوں دے گیا مجھے
دامن میں کائنات کے سو رنگ بھر دئیے
بولا در اصل روح و بدن تار تار ہیں
تب کہیں بھنورا بنا اور اُڑ کے آیا پھول تک
کس قدر ڈوبا ہوا ہے دکھ ہمارا آنکھ میں
پردے اُٹھا جہان کی تصویر کھول دے
انا کی فصل اُگا دے گی اِس بدن کی خاک
کہ جان لیتا ہوں میں حال آسمانوں کا<
میں خود میں رہتے ہوئے سب جہان سر کر لوں
لوَٹ آئے گھر کا ٹوٹتا شہتیر دیکھ کر
مجھے تراش کے پھر خود بھی میرا ہو جائے
کبھی ملے تھے تجھے ہم بھی دل کے ساحل پر
فلک پہ اُڑتی ہوئی بدلیوں میں رہتی ہے
بے حسوں کے شہر میں شرمسار رات تھی
تو سبھی رنگ مری ذات سے تعبیر کرے
عجب کٹائو ہے اپنا عجب کنارے ہیں
سینے پہ ہوائوں کے سنور جائیں کہیں
دو جزیروں کے درمیاں ہوں میں
صحرا میں ہم لوگ سرابوں جیسے ہیں
