ساغر شہزاد
شاعر کی مزید شاعری
حاصل زیست ہو تم زیست کی دولت تم ہو
پھر اسکے بعد فقط خاک کربلا چوموں
اور ہم شہروں میں بھی سہمے ہوئے رہتے ہیں
لوگ محفوظ نہیں اپنے ہی شر سے یارو
اب ایسا گلشن ہستی میں سانحہ ہو گا
ہر حق شناس کا میں تجھے پیشوا لکھوں
شعور و فہم سے ہے ماورا مقام حسین
ہر اک دور کا ہر ایک ولی حسین سے ہے
اس راز زندگی کو میرے چارہ گر نہ پوچھ

