امجد اسلام امجد
امجد اسلام امجد نے آبائي شہر سيالکوٹ لاہور ميں تعليم حاصل کي اور ايم اے او کالج لاہور سے ايک ليکچرار کي حيثيت سے عملي زندگي کا آغاز کيا، 1975 سے 1979 تک پاکستان ٹيلي ويثرن پر ڈائريکٹر کي حيثيت سے کام کرتے رہے، اس کے بعد دوبارہ اسي کالج ميں آگئے، 1997 ميں ڈائريکڑ جنرل اردو سائنس بورڈ مقرر ہوئے، چلڈرن لائبريري کمپليکس کے پروجيکٹ ڈائريکٹررہے، چاليں کتابوں کے مصنف ہيں، بيشمار سفرنامہ، تنقيد، تراجم اور مضامين لکھے، نيشنيل ايوارڈ يافتہ ہيں، گو ان کي شہرت انکے ڈراموں کي بدولت ہے، ليکن ان کي حقيقي پہچان انکي وہ نظميں ہيں جن ميں زندگي کے تمام تر پہلو اپني تمام تر دلکشي اور مٹھاس لئے ہوئے ہيں۔
شاعر کی مزید شاعری
بیٹھے ہیں دل میں ایک ارادہ کیے ُہوئے
واقعہ ہے ،یہ داستان نہیں
وہ شخص ایسا گیا پھر نظر نہیں آیا
دیوار پر لِکھی ہُوئی تحریر جو بھی تھی
آئی کہاں سے آنکھ میں یہ بے شمار دُھند
اُداسی میں گِھرا تھا دِل چراغِ شام سے پہلے
- امجد اسلام امجد
- امجد اسلام امجد , امجد اسلام امجد
- Unrated
نہیں تھا کُچھ سرِ محفل چراغِ شام سے پہلے
وہ شخص ایک شام میں کتنا بدل گیا
اِذنِ سفر کا ایک اِشارا ہُوا تو ہے
کل شب عجیب عکس مِرے آئنے میں تھے
دِل کی مُراد عاشقی میں یا ہوس میں تھی
بالکل بُھول گئے کرنی تھی کیا بات
مگر گریز کریں ہم تو مان ٹوٹتا ہے
جیسے یہ کوئی کھیل تھا ، اِک واقعہ نہ تھا !
یہ کل کی بات ہے، دل زندگی میں رہتا تھا
آئینوں سے کیوں؟ عکس مُکر تے جائیں!
ایسے حال میں رہنے سے تو بہتر ہے کہ چل
اتنے برس کي دوري اور مجبوري کے
خواب بھي ايک مسافر کي طرح ہوتے ہيں
کسي خوش نگاہ سي آنکھ نے کمال مجھ پہ کرم کيا
تري انگلي پکڑتے ہيں تجھے گھر لے کے چلتے ہيں
دريچہ ہے دھنک کا اوراک بادل کي چلمن ہے
ان ميں تيري ياد کي خوشبو ہر سو روشن ہوگي
کوئي زنجير ہو اس کو محبت توڑ سکتي ہے
چاند کبھي تو تاروں کي اس بھيڑ سے نکلے
کسي خوش نگاہ سي آنکھ نے کمال مجھ پہ کرم کيا
بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا


