احمد فراز
احمد فراز کو ٹين ايجرز کا شاعر کہہ کر پرے رکھ ديا جاتا رہا، ليکن فراز اس تمام منفي پروپيگنڈہ سے بے نياز ہو کر ايسي خوبصورت شاعري تخليق کرتے رہے کہ اردو شاعري کے کسي تذکرے ميں اسے نظر انداز کرنا ممکن نہيں، فراز کي شاعري ميں فارسي اور اردو کلاسيکي شاعري کي تمام ترلطيف روايات کا تسلسل ملتا ہے، جس ميں غم جاناں کي رومان انگيزي بھي ہے اور غم دوراں کا کرب بھي
شاعر کی مزید شاعری
بہت کڑا ہے سفر،تھوڑی دور ساتھ چلو
میں سوچ ہی رہا تھا کہ دل نے کہا کہ میں
قرعہ ء فال مرے نام کا اکثر نکلا
دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے
جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے
گا ہےگل و بلبل کي حکايات کو نکھارا
اب ذہن ميں نہيں ہے پرنام تھا بھلا سا
زخم پھولوں کي طرح مہکيں گے پر ديکھے گا کون
ہونٹ ہیروں سے نہ چہرہ ہے ستارے







