شاعری آن لائن

وصی شاہ


 شاعر کی مزید شاعری

خدا نے جو بھی دیا ہے مقام تم سے ہے
کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا
کیسا مفتوح سا منظر ہے
تمہیں جاناں اجازت ہے
باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجالیں تم کو
ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آوں گا
کس قدر ظلم ڈھایا کرتے ہو
دیار غیر میں کیسے تجھے صدا
آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
آنکھوں سے مری اس لئے لالی نہیں جاتی
میں اس حصار سے نکلوں
پھر وہ کیمپس کی فضا ہو
گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوادے مجھ کو
فلک پہ چاند کےہالے بھی
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کردو
تب یاد بہت تم آتے ہو
کاش میں ترے حسین ہاتھ
No popular authors found.
No popular articles found.