شاعری آن لائن

عباس تابش

 شاعر کی مزید شاعری

میں اپنے ہاتھ کا تتلی پہ سایہ کرتا تھا
جس کی نظر میں زندگی کرنا گناہ تھا
میں آخری جنگ لڑ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا
شرف و شیوہ تسلیم ٹھکانے لگ جائیں
تیری مرضی جس کو دہشت گرد کہہ کر مار دے
ہمیشہ مار محبت کی مارتا ہے مجھے
پور پور آنکھ کے مانند بھری آتی ہے
گلی میں کون پھرتا ہے دریچہ کھول کر دیکھوں
تری جدائی کا جھگڑا جہان سے ہوگا
اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے
یہ دل تو کوئی کام بھی ہونے نہیں دیتا
شہرِ تہمت تری گلیوں میں پھرایا گیا میں
کسی گہری اُداسی میں اتر جاتے تھے ہم دونوں
کسی کو اس کی خبر نہیں جو معاملہ ختم ہوگیا ہے
جیسے بھی ہو سکا ، بسر وقتِ زوالِ جاں کیا
ہر قدم پر سوچتے ہیں کیا کریں
یہ میری ہتھیلی ہے یہاں پہلا قدم رکھ
روز رستے کی طرح دریا سے لوٹ آتا ہوں میں
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
وہ جنگ تم بھی نہ جیتے جو ہم نے ہاری تھی
روز رستے کی طرح دریا سے لوٹ آتا ہوں میں
ایک ہی شخص تھا بخدا ایک ہی شخص
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
شرف ، شیوہ تسلیم ٹھکانے لگ جائیں
No popular authors found.
No popular articles found.