شاعری آن لائن

نگہت نسیم

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم ڈاکٹر نگہت نسیم پیشے کے اعتبارسے ماہر نفسیات ہیں اور اردو ادب اور صحافت پر بھی دسترس رکھتی ہیں۔ وہ بنیادی طور پر ایک افسانہ نگار ہیں اور انکے افسانوں کے دو مجموعے''گرد بادِ حیات'' اور ''مٹی کا سفر'' شائع ہو چکے ہیں لیکن نظم نگاری میں انکا منفرد اور بے باک انداز اظہار انہیں عہد حاضر کے نظم نگاروں میں ممیز کرتا ہے۔ڈاکٹر نگہت نسیم میرا جی کے بعد نظم کو غزل کے مقابلے میں اسکا کھویا ہوا وقار واپس دلوانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہیں اس امر کا ادراک ہے کہ انکا مزاج غزل گوئی کا نہیں اس لیئے انہوں نے غزل کے مصرعے زبردستی جوڑنے کی بجائے حقیقی اور خالص نظم لکھنے پر ہی خود کومرکوز رکھا ہے۔انکے افسانے پاکستان کے اکثر جریدوں میں برسوں سے شائع ہو رہے ہیں۔نگہت نسیم سڈنی میں ایک عرصہ سے ریڈیوایف ایم  100.9 کی اردو سروس کے پروگرام “ ریڈیو دوستی “ کی میزبان ھیں ۔ اٍس کے ساتھ ساتھ ملٹی کلچر آرٹس کی جانب سے ٹی وی ایس پر پیش کیا جانے والا پروگرام “ دیسی ٹی وی “ میں بھی میزبانی کرتی ھیں ۔
(Page 1 of 2)   
« Prev
  
1
  2  Next »

 شاعر کی مزید شاعری

ادھورا یہ سفر کیسے کرو گی
کہی دٍکھتی ھی نہیں ھو
روشنی کے گھر میں رھتی ھوں
یہ مجھے کس مقام پہ لے آئے ھو
دلوں کی بھی عجیب ذاتیں ھیں
مجھے وہی کہانی سناؤ نہ
دل کی باتیں دل ھی سے کہوں گا

چاند ھی نہ نکلا شبٍ ہجراں کے سفر سے

ایک کتاب ھو محبت کی جس کا نام تمنا ھو
سرد موسم کی سبز بارشوں میں
قدموں سے لپٹے کئی سفر اب مجھے تھکانے لگے ھیں
دیکھنے میں جتنی سلجھی تمہیں دکھتی ھوں

کیا کہیں اب


گزری ھوئی باتوں کی کتنی عجیب سی تقسیم ھے
ایک ایسی لڑکی کی کہانی جو کم عمری میں گھر سے نکال دی جاتی ھے اور پھر وہ ساری عمر کے لیئے دنیا میں گم ھو جاتی ھے ۔ ایک احساس ایک خیال اُس کی گمنامیوں کے نام
یہ تمہاری آواز کا جادو ھے یا پھر لکھے لفظوں کا سحر ھے
 تیری آشنا سانسیں مجھ سے باتیں کرتی رھتی ھیں
ھمارے لہجے رویئے سب ایک ھو رھے ھیں
تم پیار کا سمندر یوں سر پہ اُٹھائے چلتی ھو
اُس کے نام جو مجھے سب سے زیادہ پڑھتا ھے
یہ سچ کبھی بھی اچھا لگے گا نہیں
میں اپنے خوابوں کے اندھے سفر پہ تھی
اٍن دیوانی ھواؤں نے یہ کیسا حشر سا اُٹھا رکھا ھے
وہ شریںٍ سخن رھتا ھے
یہاں کتنے ھی ایسے لوگ ھیں جو اپنی ماؤں کے ساتھ صرف مدرز ڈے مناتے ھیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ھیں جو اپنی ماؤں کی قبروں پہ روز مدرز ڈے مناتے ھیں ۔۔
خواب مجھے تھماری ھی طرح اُوڑھنے لگے ھیں
کیوں مجھے تیری طرح رکھتا نہیں ھے
تین الگ الگ جنم
خواہشوں کے اسی جنگل میں
میرے رخ میں ڈھونڈ لو خود کو
ایک نیم جاں سا حشر ہے بدن میں
لوح دل پہ لکھا صرف ایک نام ملا ہے
محبت جب پاس نہیں ہوتی
بس پکار لو
صفحہ قرطاس پر اپنے خون سے حوالہ وقت کو بھی لکھنا ھے
کتابیں میں کیسے اتنی پڑھ لیتی ہوں
یہ معجزے بھی صرف رفاقتوں کے تھے
ھر طرف تمھاری خوشبو سی سرسراتی ھے
یہ کیا معجزہ ھے
سوچتی ھوں

Poems to Read

No popular authors found.
No popular articles found.