شاعری آن لائن

پروین شاکر

پروین شاکر اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہیں۔ کراچی میں 24 نومبر 1954ء کو پیدا ہوئیں۔ تعلیم پاکستان اور امریکہ میں حاصل کی۔ 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی۔ جن سے بعد میں طلاق لے لی۔ 26دسمبر 1994 کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں ، بیالیس سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جا ملیں۔
انکی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔
خوشبو، صدبرگ، خودکلامی، انکار اور ماہ تمام مجموعہ کلام ہیں۔
پروین شاکر استاد اور سرکاری ملازم بھی رہیں۔ 
(Page 1 of 3)   
« Prev
  
1
  2  3  Next »

 شاعر کی مزید شاعری

جنھیں اب تم چاہا کرتے ہو
 شوقِ رقص سے جب تک اُنگلیاں نہیں کُھلتیں
آئی ہے عجب گھڑی وفا پر
ننّھا شگوفہ
پوربی پردیسی کب آؤ گے؟
آئینہ سے فرش پر
وہ اگرچہ مطربہ ہے
  کیا عجیب حُسن ہے،
 کہ اس کے قرب کی سزا میں
 کہ ایک شام گھر کو لوٹتے ہُوئے میں راستہ بھٹک گئی
اب آئے چارہ ساز کہ جب زہر کِھل چُکا
 مرے نیم روشن جھروکے میں آئے ، نہ آئے
(نذرِ احمد ندیم قاسمی)
ہَوا کے ساتھ سفر کا مقابلہ ٹھہرا
چاند مری کھڑکی پر دستک دیتا ہے
 کِسی سے دل کی بات نہ کہہ دے
میری آنکھوں میں ترے نام کا تارہ چمکا
 کانچ کی سُرخ چوڑی
 پُھول کے سارے دُکھ
بارشوں کی ہَوا میں ،بَن کی طرح
پانی کے اِک قطرے میں
جو میرے اپنے گئے جنم کی مَدھُر صدا ہے
تری خوشبو چُھپاتی پھررہی ہوں
اُس نے میرے ہاتھ میں باندھااُجلا کنگن بیلے کا
ہرے لان سُرخ پُھولوں کی چھاؤں میں بیٹھی ہوئی
تُمھارا کہنا ہے تم مُجھے بے پناہ شِدت سے چاہتے ہو
      کبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حِنائی ہو
 مہک میں چَمپا کلی،رُوپ میں چنبیلی ہُوئی
وہ ذرا بھی نہیں بدلا، لوگو
کہ جیسے ذرہ___آفتاب کے مقابلے میں بڑھ گیا
جب آنکھ میں شام اُترے
 اُداس شام دریچوں میں مُسکراتی ہے
اِک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں
پیش کش
چارہ گر، ہارگیا ہو جیسے
عجیب طرز ملاقات اب کے باررہی
جب کسی کی حسین زُلفوں کی نرم چھاؤں میں آنکھ مُوندے
ترا کہنا ہے
دُعاتو جانے کون سی تھی
براہِ راست مُلاقات کو زمانہ ہُوا
No popular authors found.
No popular articles found.