پروین شاکر
پروین شاکر اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہیں۔ کراچی میں 24 نومبر 1954ء کو پیدا ہوئیں۔ تعلیم پاکستان اور امریکہ میں حاصل کی۔ 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی۔ جن سے بعد میں طلاق لے لی۔ 26دسمبر 1994 کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں ، بیالیس سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جا ملیں۔انکی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔
خوشبو، صدبرگ، خودکلامی، انکار اور ماہ تمام مجموعہ کلام ہیں۔
پروین شاکر استاد اور سرکاری ملازم بھی رہیں۔
شاعر کی مزید شاعری
شوقِ رقص سے جب تک اُنگلیاں نہیں کُھلتیں
کہ ایک شام گھر کو لوٹتے ہُوئے میں راستہ بھٹک گئی
اب آئے چارہ ساز کہ جب زہر کِھل چُکا
کنگن بیلے کا
- پروین شاکر
- پروین شاکر , پروین شاکر
- Unrated
اُس نے میرے ہاتھ میں باندھااُجلا کنگن بیلے کا
کبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حِنائی ہو
مہک میں چَمپا کلی،رُوپ میں چنبیلی ہُوئی
اِک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں
جب کسی کی حسین زُلفوں کی نرم چھاؤں میں آنکھ مُوندے
براہِ راست مُلاقات کو زمانہ ہُوا

