شاعری آن لائن

ڈاکٹر ابرار عمر

(Page 1 of 5)   
« Prev
  
1
  2  3  4  5  Next »

 شاعر کی مزید شاعری

اک دھو ل پڑی دھوپ ہے اے ظل الہی
یہ لوگوں سے سنا ہے کہ مجھے تم یاد کرتی ہو
رنگتیں اُڑی سی ہیں
وہ جو اک گمشدہ موجود ہے
صدا کی نبض رُک گئی
شہر سے دور ایک رستہ تھا
کسی بڑے گناہ کے ثواب جاگنے لگے
قلم کی نوک پر اب تک لہو کے قطرے ہیں
ایک مجبور تعلق سے گریزاں ہو کر
میری تصویر کتابوں میں چھپا کر رکھنا
پرندہ رات سے پھر ڈر رہا ہے
کنواری دستکیں اور رات کا خموش سفر
اس سے پہلے کہ اُداسی کا سفر ہو دائم
اپنی ہتھیلی پر بیتا ہر لمحہ
شہر میں کتنی گلیاں ہیں اور گلیوں میں دروازے
تمہاری نیم رُخ آنکھوں کا پھیلتا سایہ
ابھی تو داستاں کو خال و خد ملنے تھے
تم مرے پانیوں کا سفر کرنے والی
کوئی بتائے کہ ایسے سفر کا کیا ہوگا
چھوڑ گئی ہو نہ تم بھی
مجھے دیکھو کہ میں بھی تو
میری باتیں کہاں وہ سنتا ہے
کمال صبح وصال دیکھو
اگر مِرا  انتظار کرتی
تاروں کا آنچل تھا پتلی کمر
شبنمی سی رات تھی
دُکھوں نے چاٹ لیا جب بھی میری ہمت کو
میں اس کو چُھو نے لگوں تو وہ خواب ہو جائے
بھولی بھٹکی زندگی میں جلتی بُجھتی روشنی میں
ہچکیاں لیتی ہوئی یہ رات کی تنہائیاں
میں اپنے درد کی پہنائیوں میں زندہ ہوں
کہاں تھی تم
ہم بھی اپنا پیار چھپایا کرتے تھے
تم وہ نہیں ہو
شام سے آگے سوالوںکے دُھندلکے سے پرے
کلاس آخری تھی
دیکھا جو میں نے غور سے
وہ کہتی ہے
سنہری گُلابی دسمبر  کی کھلتی ہوئی دھوپ جیسی
طبیعت اور بوجھل کر گیا ہے

...آپ نے ابھی دیکھا ہے

No popular authors found.
No popular articles found.