ڈاکٹر ابرار عمر
شاعر کی مزید شاعری
اک دھو ل پڑی دھوپ ہے اے ظل الہی
یہ لوگوں سے سنا ہے کہ مجھے تم یاد کرتی ہو
وہ جو اک گمشدہ موجود ہے
شہر سے دور ایک رستہ تھا
کسی بڑے گناہ کے ثواب جاگنے لگے
قلم کی نوک پر اب تک لہو کے قطرے ہیں
ایک مجبور تعلق سے گریزاں ہو کر
میری تصویر کتابوں میں چھپا کر رکھنا
پرندہ رات سے پھر ڈر رہا ہے
کنواری دستکیں اور رات کا خموش سفر
اس سے پہلے کہ اُداسی کا سفر ہو دائم
اپنی ہتھیلی پر بیتا ہر لمحہ
شہر میں کتنی گلیاں ہیں اور گلیوں میں دروازے
ایک یاد
- ڈاکٹر ابرار عمر
- ڈاکٹر ابرار عمر , ڈاکٹر ابرار عمر
- Unrated
تمہاری نیم رُخ آنکھوں کا پھیلتا سایہ
ابھی تو داستاں کو خال و خد ملنے تھے
کوئی بتائے کہ ایسے سفر کا کیا ہوگا
مجھے دیکھو کہ میں بھی تو
میری باتیں کہاں وہ سنتا ہے
MURREE
- ڈاکٹر ابرار عمر
- ڈاکٹر ابرار عمر , ڈاکٹر ابرار عمر
- Unrated
دُکھوں نے چاٹ لیا جب بھی میری ہمت کو
میں اس کو چُھو نے لگوں تو وہ خواب ہو جائے
بھولی بھٹکی زندگی میں جلتی بُجھتی روشنی میں
ہچکیاں لیتی ہوئی یہ رات کی تنہائیاں
میں اپنے درد کی پہنائیوں میں زندہ ہوں
ہم بھی اپنا پیار چھپایا کرتے تھے
شام سے آگے سوالوںکے دُھندلکے سے پرے
سنہری گُلابی دسمبر کی کھلتی ہوئی دھوپ جیسی
طبیعت اور بوجھل کر گیا ہے

