شاعری آن لائن

عتیق الرحمن صفی


(Page 1 of 2)   
« Prev
  
1
  2  Next »

 شاعر کی مزید شاعری

وہ اور کسی کو دان ہوئی اب پچھلی رُت نہ آئے گی
کل کھلے گا پھر گلاب تیرے میرے پیار کا
یہ عشق نہیں رُسوائی ہے سب کے ہمرہ چل پڑتا ہے
کہیں جا کے تنہائی اچھی لگی ہے
سپردگی کی کیفیت بعید از بیان تھی
او چھوڑ جانے والے تجھ کو سلام اب کے
زندگی کے درد یکجا وقت کرتا جائے ہے
مری ہمسفر ابھی اور ہیں
کچے گھڑے پہ آئے گا تیرے بغیر کون
قسمت میں جو لکھا ہے وہ آخر ہو کر رہنا ہے
کہاں دل کو یقیں تھا کہ
مرے دل کی ریاست کا
فلک پر نظر آتا ہے چاند جیسے
سو خواب اور ہیں تو یہ اِک سراب کیوں ہے؟
ارے رے مری بات پوری تو سن لو
ہم ساتھ آج اُن کے دو پل گزار آئے
کہ آ پھر سے آنکھوں میں گلشن کھلا دے
جو تو نے کھلایا تھا آنکھوں میں میری
مرے دل کا موسم ہے تیرا مطیع
میری سوچ کے ساحل پر
کچھ شبہات کے پہرے ہیں
میری سوچ کے ساحل پر
مری سب مشکلوں کے حل مجھے تم یاد آتے ہو
پیار کا ہو سلسلہ یوں ہاتھ میرا تھام لو
یہ نظر کی کہکشاں کچھ نہ کچھ تو ہے جناب
تم کچھ نہ کہو پھر بھی اے جان سمجھتا ہوں
روکھی پھیکی چہرے پر مُسکان سجا کے رکھوں گا
اپنی سندرتا کا پالن یونہی گوری کرتی رہنا
ترا اِک لمس مِل جائے تو سرتاپا نِکھر جائیں
چودھویں کے چاند کی
جیسے بے دھیانی میں
آباد تجھی سے تھا یہ گھر دل اُجڑا ہے ویران نگر
کوئی پاس بھی نہ آیا ہم ایک ہو گئے ہیں
خوشیوں میں یوں جیون اپنا ۔۔۔
حسیں تھا جہاں یہ تری دلبری کا
کسے خبر ہے
دل یہ نادان ہے پھر بھی ڈرتا نہیں
اس وطن کے عدو
نظر نظر میں گلاب اُترے
یہاں بے نوا رہ گئے ہم اکیلے
No popular authors found.
No popular articles found.