شاعری آن لائن

سرور عالم راز سرور



    (Page 1 of 2)   
    « Prev
      
    1
      2  Next »





    گھر اجڑنے کا مرے کوئی تو ساماں ہو گا
    اور یہ دل مظلوم ستانے کے لئے ہے
    کوئی نامہ ہے اور نہ کوئی پیام
    اگر نہ ہوتی یہ عادت تو جانے کیا کرتے
    کیسی کیسی عشق میں رسوائیاں دیکھا کئے
    نہ روئے عشق کے انجام پر کوئی زمانہ میں
    تیرے  قصے   میرے   فسانے
    اف  ری  محبت ،  ہائے  جوانی !
    جیسےشباب دور سے ہو کر نکل گیا
    ذکر  تیر ا   مدام  کرتے   ہیں
    آئی  بہار  یاد  کا  پتہ  ہر ا  ہوا
    ہم  کو  ا پنا   بنا  گیا  کوئی
    دوستی مجھ سے خاص کر نہ ہوئی
    تری دوستی کی باتیں، تری دشمنی کی باتیں
    دل تری بزم میں کھینچے تو لئے جاتا ہے
    جتنا بھولنا چاہوں اس کو اتنا ہی وہ یاد آئے
    یہ افسانہ محبت کا ہے،قصہ ہے جوانی کا
    اب زمانہ سے ہمیں کوئی سروکار نہیں
    تجھ سے اتنا بھی تو اے گردشِ دوراں نہ ہوا
    سراپا سوز بن جائے، مجسم ساز ہوجائے
    تھے تماشائی مگر اب ہم تماشا ہوگئے
    ہو گئی آپ سے شناسائی
    مجھے کیا ہوا، میں یہ کیا چاہتا ہوں
    دل ایسا اٹھا سوئے گلستاں نہیں دیکھا
    رنجشِ دنیا وہم بنی اور خواب غمِ ایام ہوا
    وہی صبح و شام کی الجھنیں، وہی رات دن کا وبال ہے
    دیکھئے اس عشق میں نامِ خدا کیا کیا ملے
    انہیں سے جب ہوا رقم غموں کا سلسلہ ہوا
    کون کہتا ہے کہ ہم عشق میں ناکام ہوئے
    حجابِ رنگ و بو ہے اور میں ہوں
    اشک بہتے ہیں بہت، بات بھی کم کہتے ہیں
    مجھ سے نہیں غرض اگر سامنے میرے آئے کیوں
    رنج شام و سحر نہیں ہوتا
    شوریدہ سری اپنی آئی تو یہ کام آئی
    گھبرا گئے ہیں کشمکشِ خیر و شر سے ہم
    ''کوئے جفا میں قحطِ خریدار دیکھنا''
    دل جیسا تھا ویسا ہی صنم خانہ رہے گا
    یہ عشقِ ستمگار خدا جانئے کیا ہے
    زمیں کو رو ہی رہے تھے کہ آسماں نہ رہا
    نہ پھر آئوں ہوش میں وہ پلا، میں شرابِ ناب کو کیا کروں
    (Page 1 of 2)   
    « Prev
      
    1
      2  Next »

    Your Favorite Poetry

    View All Favorites
    No popular authors found.
    No popular articles found.