- سرورق
- شعراء کی فہرست حروف تہجی سے
- س
- سرور عالم راز سرور
اور یہ دل مظلوم ستانے کے لئے ہے
کوئی نامہ ہے اور نہ کوئی پیام
اگر نہ ہوتی یہ عادت تو جانے کیا کرتے
تیرے قصے میرے فسانے
اف ری محبت ، ہائے جوانی !
جیسےشباب دور سے ہو کر نکل گیا
ذکر تیر ا مدام کرتے ہیں
آئی بہار یاد کا پتہ ہر ا ہوا
ہم کو ا پنا بنا گیا کوئی
دوستی مجھ سے خاص کر نہ ہوئی
اب زمانہ سے ہمیں کوئی سروکار نہیں
ہو گئی آپ سے شناسائی
مجھے کیا ہوا، میں یہ کیا چاہتا ہوں
حجابِ رنگ و بو ہے اور میں ہوں
رنج شام و سحر نہیں ہوتا
دل جیسا تھا ویسا ہی صنم خانہ رہے گا
یہ عشقِ ستمگار خدا جانئے کیا ہے
نہ پھر آئوں ہوش میں وہ پلا، میں شرابِ ناب کو کیا کروں
سرور عالم راز سرور