شاعری آن لائن

فیض احمد فیض



    (Page 1 of 3)   
    « Prev
      
    1
      2  3  Next »





    جو امن اور آزادی کی جدوجہد میں کام آئے
    نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
    اتنی شیریں ہے زندگی اس پل
    شام کے پیچ و خم ستاروں سے
    دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں، لرزاں ہیں
    خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو
    پندار کے خوگر کو
    ہیں لبریز آہوں سے ٹھنڈی ہوائیں
    گم ہے اک کیف میں فضائے حیات
    وہ وقت مری جان بہت دور نہیں ہے
    مجھے دے دے
    مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو
    دل کو احساس سے دوچار نہ کر دینا تھا
    نیم شب، چاند خود فراموشی
    گزر رہے ہیں شب و روز تم نہیں آتیں
    تہِ نجوم ، کہیں چاندنی کے دامن میں
    جو پھول سارے گلستاں میں سب سے اچھا ہو
    تصور
    موت اپنی، نہ عمل اپنا، نہ جینا اپنا
    بربطِ دل کے تار ٹوٹ گئے
    آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ
    وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاں
    بام و در خامشی کے بوجھ سے چور
    خیال و شعر کی دنیا میں جان تھی جن سے
    مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
    کیوں میرا دل شاد نہیں
    آکہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے
    پھر کوئی آیا دلِ زار! نہیں کوئی نہیں
    چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز
    آؤ کہ مرگِ سوزِ محبت منائیں ہم
    یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے
    بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے
    آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیر
    گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام
    دل کے ایواں میں لیے گُل شدہ شمعوں کی قطار
    ایک افسردہ شاہرہ ہے دراز
    کسی کے دستِ عنایت نے کنجِ زنداں میں
    یہ رات اُس درد کا شجر ہے
    سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے
    سبزہ سبزہ، سوکھ رہی ہے پھیکی، زرد دوپہر
    (Page 1 of 3)   
    « Prev
      
    1
      2  3  Next »
    No popular authors found.
    No popular articles found.