میں تجھے تیرے خیالات بتانا چاہوں
چند دن اور مجھے تم نے تو سمجھا ہے ابھی
نفرتوں کی دنیا ہے اسقدر ستائش میں
تمہارے نام کو اب ریت پر لکھوں کیسے
جو عزت اُس کو ہے درکار وہ عزت نہیں مجھ میں
چھوڑی زمیں تو سر پہ مرے آسماں نہ تھا
چہرے بے رنگ ہو گئے بے نور ہو گئے
رہنے کا ڈھنگ یہ کہ رہو نہ مگر رہو
ایسے تعلقات کو میں مانتا نہیں
کبھی جو ختم نہ ہو وہ سفر ہوں
پھر آج بھول کے اُس نے مجھے سلام لکھا
اپنے ہی ہاتھوں میں پتھر ہوں گے جب
قاتل سے بھی اپنے تو عداوت نہیں مجھکو
کب اس سے معاملہ دل کا ہوا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
بھولنا مت مجھ کو جاناں یاد کر لینا مجھے
یوں روز بچھڑنا مجھے اچھا نہیں لگتا
صفدر ہمدانی