خوشبو کا جنگل
- صفدر ہمدانی
- صفدر ہمدانی , صفدر ہمدانی
- Unrated
جسم کی خوشبو پھولوں کی خوشبو سے روح میں اُتری ہے
آسماں پاؤں کی بنا ہے زمیں
قربتوں میں کھلے وصال کے پُھول
یہ جامن کا درخت میرا آیڈیل ھے
شاید لفظ ھی میری کیفیت لکھ سکیں
اور جب تمہارا سانس جیسے رکنے لگتا ہے
جس نے مجھ سمندر کو اپنے اندر سمورکھا ہے
اسی قلم سے بدن میں میرے لہو رواں ہے
عوام جیسے سروں سے بے زار ہو گئے ہیں
کل وہی کہتا تھا وردی ہے مرے جسم کی کھال
یہ حکمران کیسے اندھے ہیں گونگے،بہرے
آپ کہتے تھے یہ وردی ہے مرے جسم کی کھال
نیدر لینڈ میں‘‘ہیگ‘‘ کے سمندر کے کنارے
کمرے میں پھیلی ہوئی چنبیلی اور اسکے بدن کی خوشبو
وہ لمحہ لاؤں جو تم نے مجھ سے چُرا لیا ہے
کتنی راتیں ابھی اور جاگنا ہے ہمیں
ہنسنا اُس کا ساون کی بارش کی جوں آواز
ہوگئی رخصت گلوں سے تازگی لوگوں کے ساتھ
ایک ہی رات میں قسمت کا ستارہ ڈوبا
ایک ہی رات میں سب خواب پریشان ہوئے
ایک ہی رات میں سب خواب پریشان ہوئے
صفدر ہمدانی
