شاعری آن لائن

صفدر ہمدانی








    جسم کی خوشبو پھولوں کی خوشبو سے روح میں اُتری ہے

    آسماں پاؤں کی بنا ہے زمیں

    ہم اپنی ہار مان ک جو اٹھے
    قربتوں میں کھلے وصال کے پُھول
    رازِ کُن ہی تو ہے
    یہ جامن کا درخت میرا  آیڈیل ھے
     اسکی خوشبو میرے اپنے بدن کی ھے
     شاید لفظ ھی میری کیفیت لکھ سکیں
    اور ہجر کا موسم آن پہنچا
    اور جب تمہارا سانس جیسے رکنے لگتا ہے
    اردو ادب کی مختصر ترین نظموں میں سے ایک
    رات میں اپنےبدن  سے یوں لپٹ کر سو گیا
    جس نے مجھ سمندر کو اپنے اندر سمورکھا ہے
    اسی قلم سے بدن میں میرے لہو رواں ہے
     عوام جیسے سروں سے بے زار ہو گئے ہیں
    کل وہی کہتا تھا وردی ہے مرے جسم  کی کھال
    یہ حکمران کیسے اندھے ہیں گونگے،بہرے
    آپ کہتے تھے یہ وردی ہے مرے جسم کی کھال
    اُسے شاید ہی اس کا علم ہو کہ!
    نیدر لینڈ میں‘‘ہیگ‘‘ کے سمندر کے کنارے
    کمرے میں پھیلی ہوئی چنبیلی اور اسکے بدن کی خوشبو
    وہ لمحہ لاؤں جو تم نے مجھ سے چُرا لیا ہے
     ایک نغمہٍ دل  تمہیں سنانا ھے
    کتنی راتیں ابھی اور جاگنا ہے ہمیں
    اپنی باتوں کا سا لہجہ لگ رہا تھا سر تاسر
    ہنسنا اُس کا ساون کی بارش کی جوں آواز
    ہوگئی رخصت گلوں سے تازگی لوگوں کے ساتھ
    ایک ہی رات میں قسمت کا ستارہ ڈوبا
    ایک ہی رات میں سب خواب پریشان ہوئے
    No popular authors found.
    No popular articles found.