Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

لو مٹھائی کھا لو !

نصیرالدین نے بتایا کہ جب چودہ اگست کی صبح جناح صاحب اور ماؤنٹ بیٹن سجے بنے اسمبلی کی طرف تشریف لا رہے تھے تو میں بھی سڑک کے کنارے کھڑے ان ہزاروں آبدیدہ لوگوں میں شامل تھا جو جناح صاحب کو دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے تھے اور شکرگزار تھے کہ اس نے ایک ایسا ملک بنا دیا جس کی چھت سب کو خوف اور روز روز کے جھنجھٹوں سے محفوظ رکھے گی۔

میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور لالچی نگاہوں سے نصیرالدین کو دیکھنے لگا تاکہ اس کی باتیں ضائع ہونے سے پہلے لپک لوں۔

پھر بابو جی جنرل ایوب آیا۔ہم سب لوگ بہت خوش ہوئے۔اس نے آتے ہی کہا کہ میں گندم اور چینی چھپانے والوں کو خود گولی ماروں گا۔کسی نے سڑک پر کچرا پھینکا تو کھال کھینچ لی جائےگی۔ڈاکوؤں اور چوروں کو اسی جگہ لٹکا دوں گا۔سب لوگ ملک کے لیے کام کریں۔ سب کو برابر کا پھل ملے گا۔

اس کے بعد نصیرالدین چپ ہوگیا۔

پھر کیا ہوا؟ میں نے بےصبری سے پوچھا۔ میں چاھتا تھا کہ وہ بولتا رہے۔

نصیر الدین ہنس پڑا۔بابو جی تمھیں تو سب معلوم ہے۔آگے کیا بتاؤں!

اچھا نصیر الدین تم نے کبھی ووٹ ڈالا ؟

جی ہاں ! ستر میں پہلی اور آخری دفعہ ڈالا تھا۔یہاں چوک میں تھڑے پر رات رات بھر بحثیں ہوتی تھیں۔بہت سوں کا خیال تھا کہ چلو دیر سویر سہی اب خدا نے سن ہی لی اور بھٹو کو بھیج دیا ہے۔ روٹی، کپڑے اور مکان کی تو بے فکری ہو ہی جائےگی۔

 جب ضیاء الحق آیا تب بھی حلوائی کی دکان لٹ گئی۔جب بے نظیر آئی تب بھی دکان خالی ہوگئی۔مشرف کے ٹیم ( ٹائم) پر بھی یہی ہوا۔ بابو جی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہماری قوم اتنی پاگل کیوں ہو جاتی ہے۔ آنے پر بھی مٹھائی بانٹتی ہے اور جانے پر اس سے بھی زیادہ۔۔۔۔۔

بابوجی جب اس کے جیتنے کی خبر آئی تو میری سمجھ میں نہیں آ رھا تھا کہ خوشی میں سامنے والی بلڈنگ پر چڑھ کر اڑنے لگوں، بھاگنا شروع کردوں کہ چیخوں۔یہاں چوک پر اتنی مٹھائی بٹی کہ حلوائی نے دوپہر کو ہاتھ اٹھا لیا اور دوکان بند کرکے چلا گیا۔

جب ضیاء الحق آیا تب بھی حلوائی کی دکان لٹ گئی۔جب بے نظیر آئی تب بھی دکان خالی ہوگئی۔مشرف کے ٹیم ( ٹائم) پر بھی یہی ہوا۔ بابو جی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہماری قوم اتنی پاگل کیوں ہو جاتی ہے۔ آنے پر بھی مٹھائی بانٹتی ہے اور جانے پر اس سے بھی زیادہ۔۔۔۔۔

لیکن نصیر الدین تمہاری زندگی کا وہ کونسا دن تھا جب تم سب سے زیادہ خوش ہوئے تھے ؟

سچی سچی بتاؤں بابو جی ! میرا خیال ہے کہ جب میں اپنی بیوی کے ساتھ اپنے بچے کی انگلی پکڑ کر چودہ اگست سے آٹھ دن پہلے کراچی کے ریلوے سٹیشن پر اترا تھا تو اس دن جیسی میٹھی نیند آئی ویسی پھر نہیں آئی۔ایک سیٹھ نے مجھے اپنے مل میں مزدوری دی، رہنے کوکوارٹر دیا، تنخواہ کم تھی مگر گزارہ ہوجاتا تھا۔ تیرہ چودہ سال نوکری کی، پھر سیٹھ کا دوالہ پٹ گیا، بیوی مر مرا گئی، لڑکا نشے میں پڑ گیا۔ میٹرک کیا تھا اس نے، کہیں کورنگی میں ہوتا ہے۔کبھی کبھار ادھر بھی نکل آتا ہے۔سیٹھ کا دوالہ پٹنے کے بعد میں نے جونا مارکیٹ میں ریڑھا کھینچنا شروع کردیا۔اب آٹھ دس سال سے یہ بھی نہیں کر پا رھا۔

آج نصیر الدین بیاسی تراسی برس کا ہوچکا ہے اور کراچی کے پاکستان چوک کی ایک بغلی گلی کی ایک کھولی میں زندگی کے دن گن رھا ہے۔محلے والے آتے جاتے کچھ نہ کچھ خاموشی سے دے دلا جاتے ہیں۔

باتوں باتوں میں نصیر الدین کو اچانک خیال آیا کہ میں تو مہمان ہوں۔اس نے جست کی ایک پرانی سی پلیٹ سے کپڑا ھٹا کر میرے سامنے رکھ دی۔

لو کھاؤ! ایک لونڈا زرداری صاحب کی خوشی میں مٹھائی کے یہ تین ٹکڑے دے گیا ہے۔۔۔۔۔۔اب جانے اگلی مٹھائی کب آئے۔۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر نصیر الدین نے اپنی ہی بات پر ہنسنا شروع کردیا۔اور پھر اس پر کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔۔۔۔۔

تبصرہ جات

سورج سے عجیب دوستی ہے

سورج سے عجیب دوستی ہے
تن من میں دھوپ اُتر رہی ہے

یہ کس نے نقابِ رُخ اُٹھایا
پہلے سے زیادہ روشنی ہے

اک ہجر کے روگ ہی میں یہ عمر
روتے روتے گزر گئی ہے

جاگ اُٹھا وہاں وہاں پہ سبزہ
وہ دھوپ جہاں جہاں چلی ہے

رُسوائی کا غم بھلا کسے ہو
ہر شخص یہاں پر اجنبی ہے

اب کون مجھے بتائے آکر
اِس شہر سے وہ کہاں گئی ہے

آنسو مرے کہ رہے ہیں فرہاد
اِس دل کو تیری آگہی ہے

تبصرہ (1)

چوری

جرمنی میں دونوں بازوئوں سے محروم شخص سپرسٹور سے سی سی ٹی وی کیمرہ کے ساتھ منسلک ٹی وی سیٹ چوری کر کے لے گیا۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

ہفتہ تحفیف اسلحہ ،دوہرے معیار

تخفیف اسلحہ کا ہفتہ ہر سال 24 تا 30 اکتوبر منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آئی اے ای اے کی رپورٹ پر مباحثہ کے دوران اقوام متحدہ کیلئے پاکستان کے مندوب رضا بشیر ترار نے واضع کیا ہے کہ پاکستان ایٹمی عدم پھیلائو کے عزم پر قائم ہے اور پاکستان کا سیف گارڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم انتہائی موثر ہے۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

بھارتی جنگی جنون

بھارت جہاں 50فیصد سے زائد آبادی غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں گھری ہوئی ہے۔ ننگی بھوکی بھارتی جنتا بے بسی اور بے کسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ مزدوروں اور کسانوں کی لاکھوں کی تعداد میں خودکشیاں بھارت میں سماجی معاشی ناانصافیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

اترپردیش کی دلت وزیر اعلیٰ مایا وتی کی جان کو خطرہ؟

ائر پردیش کی پہلی دلت وزیر اعلیٰ مایا وتی کے پچھلے ہفتے اپنے پارٹی بی ایس پی کے سالانہ کنونشن میں یہ اعلان کرکے اپنی ہی پارٹی میں کھلبلی مچا دی کہ انہوں نے اپنے وارث کا انتخاب کرلیا ہے جو ان کے بعد ان کی پارٹی کی کمان سنبھالے گا۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

بدمعاش بھارت کی دہشت گرد ”را”

نئی دہلی میں ہونے والے انسداد دہشت گردی میکنزم اجلاس میں بھارت کے خصوصی سیکرٹری برائے خارجہ تعلقات ووک کاتجو نے بغیر ثبوت فراہم کئے ایک بار پھر کابل میں بھارتی سفارتی خانے بم دھماکے کا الزام پاکستانی آئی ایس آئی  پر عائد کردیا۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

ہندو دہشت گرد تنظیموں کی مسلم کشی

ہندو انتہاء پسند تنظیموں ”آر ایس ایس” اور ”بجرنگ دل” کے اقلیتوںپر حملوں کی وجہ سے بھارت میں مختلف ریاستوں میں پُرتشدد کارروائیوں کی بڑھتی ہوئی لہر دیکھی جارہی ہے۔ بھارتی اقلیتیں جن میں مسلمان اور عیسائی شامل ہیں۔ بار بار حملوں کے خوف سے ایک بے یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

ایڈز زدہ بھارتی فوج کے بدترین حالات کار

بھارت سماجی اور اخلاقی اعتبار سے ایک غلیظ معاشرہ ہے جہاں ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریضوں میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ بھارتی مسلح افواج بھی اس موذی مرض سے پاک نہیں ہیں۔ اس سال ایڈز کے 267 کیسز کی تشخیص کی گئی ہے۔ اس مرض کی وجہ سے بھارتی مسلح افواج کے ملازمین کی ازدواجی زندگیاں تباہ ہوچکی ہیں کیونکہ ان کی بیویاں ان کے ساتھ رہنے سے انکار کردیتی ہیں۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

اسامہ بن امریکہ سے بش بن ڈالرتک

امریکن ڈیموکریٹک  پارٹی کے صدارتی امیدوار مسٹر بارک اوبامہ نے اپنے سیاسی حریف امیدوار مسٹر جان مکین کو امریکہ کیلئے خطرہ قرار دیکر امریکن عوام کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ اس لئے کہ مسٹر جارج بش بھی امریکہ کیلئے زبردست خطرہ ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں بش بن ڈالر بننے کے لئے اسامہ بن امریکہ کو پیدا کیا ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات