شاعری آن لائن
Home
SMS Guru
Urdu News
Al Qamar Blog
English News
Our Team
Site Map
Contact Us
View Blogs
شعراء کی فہرست
اپنی شاعری ارسال کریں
Account Login
Logout ()
Submit poetry
Submit Blog
My Account
My Submissions
سرورق
Site Map
Site Map
General Site Map
Al Qamar Blog
Contact Us
English News
Home
Our Team
Site Map
SMS Guru
Urdu News
شعراء
jawwad raza khan jami
Qasir Mahmood
Tashie Zaheer
ماہ پارہ صفدر
مسعود مُنور
ناسک اعجاز
یاسین طاہر
تعارف اللہ خاوری
جعفر رضوی
حسن عباس رضا
خاور چوہدری
رفیع رضا
زرقا مفتی
سید اعجاز حسین شاہ
ساغر شہزاد
شمائلہ نثار
علی شان
عاکف غنی
غلام مصطفیٰ قاسم
No Poets found.
Articles by Category
شعراء کی فہرست حروف تہجی سے
ا
ڈاکٹر ابرار عمر
احمد فراز
امجد اسلام امجد
احمد ندیم قاسمی
احمد شمیم
انورزاہدی
ابن آدم
اعتبار ساجد
ب
بدیع الزمان
پ
پروین شاکر
ت
تعارف اللہ خاوری
تسلیم الہی زلفی
ث
ثریاشہاب
ج
جعفر رضوی
جمشید مسرور
اب بھی وہ دریا یاد ہے مجھ کو
مڑنا چاہوں بھی تو اب مڑنے کی کوئی راہ نہیں ہے
ہستی کے کہرے سے کسی کے ہاتھ نہ کچھ بھی آئے
شام کو منڈی کے بے رونق در و دیوار میں
وہ روشنی۔ کہ مرے بچپنے کی دو پہریں
نکل جاں گا اس کمرے سے میں
نہیں ہے چیز کوئی کار گر سمجھوں تو کیا سمجھوں
چھپا ہے اندحیرے میں دیکھو
کوئی نہیں ہے
یہ تصویریں
پھر درختوں نے گرائے خاک پہ پتے تمام
فغاں ہی آخری سچائی ہے غم کے ٹھکانوں میں
اپنا سرمای حیات ہے کیا
جب سورج دشمن ہو جائے دریا سے پناہیں مانگتے ہیں
برف کے گرنے کا اور اندازہ ہے اب کے برس
ہمیں بے کار مرنا ہے ہمیں بے کار جینا ہے
مجھے پچسیواں گھنٹہ مجھے اک آٹھواں دن دو
خوشی میں غم کی بھی اک داستاں ہے
سنگِ غمِ دل کا ایک بار ناشاد ہے مجھ کو
بڑھتی چلی جاتی ہے گر انباری انفاس
یادوں کو اماں ملے نہ یارب
ابھی سب کچھ نہیں دیکھا
مری موت میری نہیں دوسروں کی بھی ہے
مجھے ہر دم تلاش لمح بیداد رہتی ہے
ح
حسن عباس رضا
حشام احمد سید
میں ہوں نقاد کہ جلاد مجھے تم جان لو پیارے
حیرر قریشی
خلاف دنیا کی کیا کیا گواہیاں نہ گئیں
پیاسے سمندروں کی طرح تَیرتے رہے
کچھ کہہ رہی ہے پھر مِری افسردگی مجھے
مِرے بدن پہ ترے وصل کے گلاب لگے
لفظ تیری یاد کے سب بے صدا کر آئے ہیں
عجیب کرب و بلا کی ہے رات آنکھوں میں
خ
خاور چودھری
د
دلشاد نسیم
ر
رفیع رضا
ز
زرقا مفتی
س
سید تفسیر احمد
سرور عالم راز سرور
غم دنیا جو نہ ہو گا غم جاناں ہو گا
جو چشم کرم ہے وہ زمانے کے لئے ہے
صبح سے ہو گئی ہے یارب شام
ہمیں زمانہ ہوا آپ سے وفا کرتے
عمر بھر رویا کئے ناکامیاں دیکھا کئے
دل شوریدہ خو کی خون افشانی نہیں جاتی
رسوا رسوا سارے زمانے
دل نے کسی کی ایک نہ مانی!
یوں آفتاب شوق شب غم میں ڈھل گیا
صبح کو ہم یوں شام کرتے ہیں
تیرا گزر ادھر جو برنگ صبا ہوا
دل کی دنیا بسا گیا کوئی
بات کیا ہے تری گزر نہ ہوئی
ہمیں یاد آیئں اکثر تری دلبری کی باتیں
دیکھنا ہے کہ وہاں سامنے کیا آتا ہے
سعادت سعید
ساغرشہزاد
مرا کعبہ مرا سجدہ میری جنت تم ہو
نصیب ہو تو در اوج مصطفٰیﷺ چوموں
گماں سے بدگمانی کا سفر ہے
جانور دشت میں کم ڈرتے ہوئے رہتے ہیں
آئنے ڈرنے لگے عکس بشر سے یارو
تیرے خیال کی حد سے بھی ماورا ہو گا
بہت آگے نکلتا جا رہا ہوں
مولا لکھوں امام لکھوں مرتضی لکھوں
بقائے عظمت انسان ہے پیام حسین
وہ قادری ہو یا پھر صابری حسین سے ہے
گوہر فشاں ہے کس کے لئے چشم تر نہ پوچھ
ص
صفدر ہمدانی
ش
شمس جیلانی
ع
عاکف غنی
عابد جعفری
عارف فرہاد
عباس تابش
عتیق الرحمن صفی
عنبرین صلاح الدین
علی حسن شیرازی
عبدالمجید عدم
ف.
فرحت عباس شاہ
فرزانہ خان نیناں
فیض احمد فیض
فرخندہ رضوی
ک
کنور امتیاز احمد
م
ماہ پارہ صفدر
محسنہ جیلانی
مسعود منور
محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے
اندیشہ ہائے عہدِ فساد
شریعت سے شریّت تک
شہادت دے دن دا نوحہ
حکمراں کیسے کیسے
عوامی فرمان
کبھی پگڑی اُچھلتی تھی،مگر اب وِگ اُچھلتی ہے
فرض کر لو کہ ہم مسلماں ہیں
مبشر سعید
منیر نیازی
ماجد صدیقی
رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے
پت جھڑوں میں کیا سے کیا یاد آئیاں
اپنے گھر میں جبر کے ہیں فیضان کئی
ے جو ہشیار تھا ، دیکھا چھین لیا
اِک زمانے سے بہ وجہِ قحطِ زر، ناراض ہیں
اظہار کو تھا جس کی رعونت پہ گماں اور
وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے
م خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے
دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا
جبر وہ کیا ہے جس سے آ نکھ چرانے لگے ہیں
اس نے بھی جو زہریلے دشمن پر اب کے جھپٹا ہے
یہ کیا؟ کچھ کہنے کے بعد ہی سوچا جائے
ہمارے گرد ہے کیا جال سا یہ چالوں کا
ہونا کیا ہے اِس کے شور مچانے سے
وقت کی دھن پر لپکتی زندگی، رک جائے گی
وقت دکھا دے شاید کوئی بھولی بسری شام
وہ چنچل جب سے میرا ہو گیا ہے
وہ کہ اجڑے ہوئے جوڑوں میں سجائے جائیں
ناحق پہ بھی لاریب گھڑی آئے گی کچھ اور
نہ ابتدا سے نہ انجامِ ناگہاں سے سنی
ملا ہے تخت کسے کون تخت پر نہ رہا
مزرع دین میں اگتے ہیں اصنام مرے
مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِداکر دی
لٹ جانے کے خدشوں سے دو چار ہوئے
لگے ہے اپنے یہ دن،چلچلا جیسے ہیں
گیا تو باغ کا رشتہ فنا سے جوڑ گیا
گھٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے
کیا خبر کیا کچھ کوئی دیکھے یہاں
کھیتیاں خشک اور آبیانے وہی
کوئی نشانِ سکوں آنکھ کی فضا میں نہیں
کب مہاجن نجانے بگڑنے لگیں
قاتل تھا جو، وہ مقتول ہوا
فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے
صحنوں کی گھٹن شہر کا مِینار نہ جانے
شہر پہ جانے کس افتاد کی گھڑیاں آنے والی ہیں
شبِ سیہ میں جگنو سا جو نگاہ میں ہے
شاہیں پہ بندھ رہا تھا نشانہ، کمان کا
سرفرازی بھی دے خجالت بھی
سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے
زد پر جب اس کی میں حدِ جاں سے گزر گیا
رہن جن کے عوض ہو متاعِانا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں
رت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے
راگنیوں سے بے بہرہ سر تالوں جیسے
ذِی نفس جو بھی ہے اس کو جان کا کھٹکا لگا
دل سے تیروں کا اور کمانوں کا
دامن دامن بھیگ چلا ہے آنکھیں ساری بے نم ہیں
دھوکا تھا ہر اِک برگ پہ ٹوٹے ہوئے پر کا
دھچکے ابھی کتنے ہیں ابھی کھائیاں کیا کیا
خلق چاہے اسے حسین کوئی، وقت با صورتِ دگر دے دے
خلقتِ شہر کو بے زباں دیکھنا
خاص ہے اس سے جو اِک دا چل جائے گا
جس کا ہر منظر مرتب ہے نئی آفات سے
جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے
جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں
جتنے کمتر ہیں یہ کہتے ہیں، خدا نے کیا کِیا
تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے
پتا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں
اپنے گھر میں جبر کے ہیں فیضان کئی
اپنے گھر میں جبر کے ہیں فیضان کئی
اِک زمانے سے بہ وجہِ قحطِ زر، ناراض ہیں
اظہار کو تھا جس کی رعونت پہ گماں اور
ن
ناسک اعجاز
نرگس جمال سحر
نگہت نسیم
نوشی گیلانی
ندیم اشرف
ناصر کاظمی
ناہید ورک
تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ
بے مہر رفاقت
اس کے حصارِ خواب کو مت کربِ ذات کر
گر ہے تو لمحہ لمحہ یہی اک ملال ہے
جسم و جاں کے زنداں میں روشنی کی خواہش کی
رشت جاں ٹوٹنے پر۔ ۔ ۔
بے شک گزر رہی ہے مسلسل عذاب میں
کب ہمیں تمنا تھی آنکھ میں بسانے کی
میری صبح میری رات رہنے دیتے
اے طلب زاد
ہوا چپ ہے صدا چپ ہے
اگر مل سکے تو وفا چاہیے
بد گمانی کا ذرا پردہ ہٹا کر دیکھیئے
سوچتے رہتے ہیں ہر دم جو ضرر کی باتیں
وہ نہیں جانتے جب وفا، کیا کریں
نغمہ بن کے ہونٹوں پر ان کے جو بکھر جاتے
میں خود کی خواہش میں رہنا چاہتی ہوں
رہتا ہے مری تاک میں آزار کا موسم
ہم جہاں بھی جدھر بھی جائیں گے
تیرے ہوتے ہوئے اکیلی ہے
تعبیرکچھ تو ہو کبھی میرے بھی خواب کی
سماعتوں کا یہ اعجاز دیکھتی ہوں میں
جب سے ادراک و ہنر کا مجھ پہ در وا ہو گیا
یاد
تمام عمر ہمی کیوں رہے وفا کرتے؟
ہوئی ہیں گویا گلاب آنکھیں
ہمیں تیری محبت میں کمی اچھی نہیں لگتی
سنتے تھے بیوفائیاں تیری
سای گل میں رہوں محوِ خراماں ہمدم
فیصلہ
پچھلی رت کے شوخ زمانے یاد آئے
آنکھوں میں تیرتے ہیں جو خواب شبنمی سے
میرے احساس کے آنگن میں اتر جانے کا
تارِ مژگاں جو یوں نم سا ہے
آنکھ میں نمی کیوں ہے
میرے دل میں شور تیرا جب سے ہے
تجھ کو اک نغمہ بنانا چاہتی ہوں
بے بسی
ہر خزاں کو بہار کرتی ہوں
دل میں مچلتی ہے انجان خواہش
تیرا احساس پانیوں میں رہے
آنکھ سے غم نہاں نہیں ہوتے
چاندنی بن کے جب اس چاند کا سایہ نکلے
آپ کے دل سے نسبت سی ہونے لگی
تیری تصویر سے کروں باتیں
شام اسے بتانا
یہ جو لمحے گلاب جیسے ہیں
ہو فرقتوں میں وصال کیسے
دردِ دل ایسا بڑھا خود اپنا درماں ہو گیا
محبت کا کوئی اشارہ تو دے
تفسیر مرے سوال کا تھا
کڑی دھوپ کا جو سفر یاد آیا
دردِ دل زبان چاہتا ہے
کبھی سمجھ میں نہ آئیں گی چاہتیں میری
مرے ہم نشیں
سوال
روز و شب اک ایک پل زخمِ جدائی دیکھئے
خواہشیں ہوتی ہیں کیا کیا بارشوں کی رات میں
ابا جی کے لیے
امی اور ابا جی کے لیے
دل کے ارماں روتے تھے بام و در کی یاد میں
کیا کہا، ۔۔یہ دل مرا نا قابلِ تسخیر ہے؟
تیری ہر بات رلاتی ہے مجھے رہِ رہِ کر
ابرِ ریشم کی طرح مجھ پہ وہ چھانے والا
اے ہم نفس بتا تو۔ ۔ ۔
رہِ الفت کی ہر منزل ترے دم سے ہی سر ہو گی
جب تلک میری زندگی باقی
بکھرتے ہی گئے سب خواہشوں کے ساز، کیا کرتے
پھر بہانے پرانے بناتے ہوئے
بہار آمیز یہ موجِ صبا کچھ اور کہتی ہے
مجھے زندگی کی صدا کہہ رہے ہو
میرے اندر خاموشی بولتی ہے
زندگی تجھ کو مناں کب تلک
ردائے تن پہ میری داغِ رسوائی تو دیکھو
ہوا میں اڑتے ہوئے بادباں نہیں گزرے
تری یاد میں رہے دل مرا بے قرار کب تک
تھک گئے ہیں ہم تیرے روز کے ستانے سے
جی رہی تھی جسے اک جہاں کی طرح
رہنا تھا مجھ کو تیری نظر کے کمال میں
پھر تیرے خواب ٹانک دیے ہیں پلک پلک
و
وصی شاہ
ہ
محمد ہارون عباس قمر
کلیم احسان بٹ
یہ جانتے تھے کہ ملنا اداس کر دے گا
یہ جانتے تھے کہ ملنا اداس کر دے گا
دل کے ٹوٹ جانے کا سانحہ نکل آیا
دل کے ٹوٹ جانے کا سانحہ نکل آیا
و ہ پر ی کی تھی نہ وہ جادو کی
وہ لگ گیا ہے جان کو آزار دوستا
دل لگی سی دل لگانے سے رہی
درد اظہار تک نہیں آیا
دیکھتا اک نظر تو کیا ہوتا
ہر آن کوئی قہر مرے سامنے پھر تھا
ہم سے پھر وعد ہ خلا فی ہو گئی
لازم تھی احتیا ط کی حد سے گزر گئے
کچھ سبب ہے یا یونہی وہ بے سبب مصروف ہے
مرا دیوان ہوتا جا رہا ہے
گھر چھوڑ کر مکین گھروں کے چلے گئے
شرح غم کیسے کریں لطف بیاں کیسے ہو
ہم پہ آیا ایسا وقت محبت میں
ہمارے لفظ بے تاثیر نکلے
دل کی باتیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں
کہیں آنکھوں میں خوابوں کا نگر تعمیر کرتے ہیں
اس کا چہر ہ یاد نہیں ہے
حیلوں کے ساتھ تھی وہ مثالوں کے ساتھ تھی
سو رنج و الم کھینچے ہیں سو درد سہے ہیں
اس سے تعلقات کی حسرت بھی کچھ نہیں
تمھار ا سانس بھی دشوار کر دیا جا ئے
کتنا شیریں بیان لگتا ہے
آیا کرو ، بیٹھا کر و اور حال دل پوچھا کر
تیرے کو چے کہاں گزرتی ہے
درد ٹھہرے تو بات کرتے ہیں
دل سے صبر و سکوں روانہ ہو
ہر دل سے نکل جانے کا امکان کھلا رکھ
شاخوں میں اڑی دھوپ ہے اے ظل الہی
تمھاری زلف سنورنے میں د یر لگتی ہے
وہ خوا ب تھا جو مری چشم تر کی قید میں تھا
جس کی خواہش پر وطن سے دور جا نا پڑ گیا
مجھ کو آتا نہیں ظالم کی اطاعت کرنا
اپنی جیب اور گھر کا خرچہ دیکھ رہے ہیں
در و دیوار کو تاروں سے حسیں کیسے کریں
روگ دل کا لگا کے بیٹھ گیا
میر ے بت کو کر کے زندہ لے جائے گا
ہر نقش اس کے چہرے کا سادہ رکھا گیا
شہزادہ جب چوتھی سمت کو جاتا ہے
ہر قدم منادی ہے زندگی کے رستے میں
پہلے سے بھی کڑی ہے وہی نامراد رات
چل مدح شا ہ میں ہم بھی کریں خون دل کشید
جب بھی گفتار لے کے آیا ہے
گھر کے اندر گھر بنا کے اور بے گھر ہو گیا
جب تقدیریں بن جاتی ہیں
بے فصیل شہروں میں بے امان بستی میں
چر مراتے خشک پتے اک ہوائے تیز میں
چلو باغوں کو چلتے ہیں
یہ ایک ایک اذیت سے آشنا دل ہے
وہ بھی ا یسے سنورتا آتا ہے
جب درد کے مضموں نہیں ہوتے مرے مرشد
ہم کسی شخص کو آزار نہیں دے سکتے
تھا مرے سامنے دشمن میر
کتنے رشتوں میں باندھے ہوئے لوگ ہیں
مری حا لت پہ سوگوا ر نہ ہو
ہمارے ہا تھ ہو تی ہی نہیں ہے
ا س کے لہجے میں ایک خو ش بو ہے
دل کو دھڑکا ہز ا ر رہتا ہے
مشقت کر کے لوٹا ہے کوئی دکھ نہ اسے کہنا
مرے لشکر کے کماندار مرے قاتل تھے
عین ممکن ہے کبھی کم نظری سے گزریں
کوئی علا ج یہاں چارہ گر نہیں ممکن
اک عجب سی کیفیت طا ر ی رہی
ہوا کے ہاتھ میں حیرت تھی اور کچھ بھی نہ تھا
اپنے بوجھ کو ڈھوتے آدمی تھک جاتا ہے
ہزار صدق و صفا ہے سرشت میں اس کی
اس قدر با ندھنا بھی مشکل ہے
حال ہی دل کا مرے ایسا تھا پچھلی شام کو
کتاب زندگی کے باب کتنے
تا دیر پر یشا نی کے عالم میں رہو گے
ہم سے پھر شمس و قمر چھین لیا
اڑتی تھی خاک شہر میں اتنا تو یاد تھا
بیکار گیا میں نے جو ہتھیار خرید
ہر کوئی بے ا مان بیٹھا ہے
اک اک کر کے پنچھی ا ڑ تے ر ہتے ہیں
وہ چاند کا ملبوس وہ تاروں سے سجے خواب
ہم ترے کوچے میں آئیں ا تنے سودائی نہیں
ٹھہر کے دیکھتے ہیں قافلے سفر والے
پورے جو بن پر سورج تھا اور وہ رستہ ڈھونڈ رہا تھا
ہل رہے ہیں چند پتے شاخ پر
سبز جنگل میں کسی مور کا پر کھلتا ہے
ترا ملنا بھی کوئی کھیل نہیں لگتا ہے
کبھی فا قہ کبھی لقمہ ملا ہے
د و دو د ر وا ز ے تھے تین دریچے تھے
خواب بہہ گئے سارے ریت کے گھروندے میں
شعر حسن و کمال سے اترا
متا ع درد و غم ہے اور میں ہوں
قاتل لمحہ تاریکی میں مٹ بھی گیا ہے
یہ ر ا ئیگا نء ر نج سفر یہی کچھ تھا
شاہز ا دے کو کسی حربے سے کالا کر دیا
اک شہر غریباں میں فقیروں کی طرح تھے
اسے دیکھے زمانہ ہو گیا ہے
ہوا دیوار و در سے جھانکتی ہے
چاند پر سوت کاتنے والی
میرے آنگن میں وہ خوشبو کی طرح مہکا رہا
عمر بھر بھیگنے کی خواہش تھی
ترا اپنا طریقہ تھا مرا اپنا طریقہ تھا
اپنے ہاتھوں میں کدالوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا
وہ بچپن کا سا تھی تھا
جہاں حرفِ تمنا لکھ رکھا تھا
ہم نے کن مشکلوں سے ٹالا ہے
دل جو ٹوٹا تو دیر تک روئے
پانی پر بنیاد رکھی ہے
کسے کہیں کہ ہمیں در د دل ستاتا ہے
ا سے ہے عادتِ تعجیل ہو نہیں سکتا
ہم سخن فہم کہاں اس سے بھی کچھ کم تر تھے
کبھی ایسا بھی آسماں دیکھیں
ایک کے بعد دوسرا دے گی
آرام سے اک بات بھی سنتا ہی نہیں ہے
رقص کا روپ دھار کر دیکھو
حق نے کبھی بھی اس کو مجدد نہیں کیا
ورق پہ نام جو ، پڑ ھتا تھا خواب چہرے سے
آتا ہے دعاں سے ، دعاں کو بھلا کے
دلیل دیتا ہے نہ خود قبول کر تا ہے
تیرے دروازے پہ آیا تھا صدا کی میں نے
بساطِ تارِ نظر میں جو شکل یار نہ تھی
دلوں میں سیلِ تمنا کی شورشیں لے کر
جیسے ہر آن کوئی مرتا ہے
اک خون کا د ر یا ہے کہ تا حد نظر ہے
آدھا دھڑ انسانوں جیسا آدھا دھڑ تھا پتھر کا
اچھے لوگو ں سے گفتگو رکھنا
کبھی کٹتے ہوئے سر بولتے ہیں
بے حقیت اپنا ہونا یا نہ ہونا رہ گیا
سبھی اصول سبھی تجزیے بدل جائیں
لے اب ترکِ محبت کر رہا ہوں
قتل بھی کرتا نہیں جانے و ہ قاتل کیا تھا
تیری آنکھوں سے اب غمزے اشا رے کیوں نہیں ملتے
یہ دعا ہے کہ مرا حرفِ دعا راز رہے
تری گلیوں کا تھا گدا میں بھی
جسے حرف غم نہ سنا سکا ترا غم گسار ہے بھول جا
یار جانے گمان کیا کرتا
ایو ں تو پاگل بنتا ہو گ
وہ مہرباں بھی ہوا تھا نہ مہر باں ایسا
جب شکستہ مرے دل سے بھی گریباں نکلا
آئے ہمارے ذہن میں آ کر بکھر گئے
زمیں کو گھومتا رکھا گیا ہے
اب نصیبوں میں فقط اک روسیاہی رہ گئی
اشکوں سے بھر گیا ہے جو دامن بہار میں
جبر یا اختیار میں رہنا
حسرت یک نظر میں بیٹھے ہیں
حرف کو معتبر ہی رہنے دو
لمحہ لمحہ حادثہ د ر حادثہ پھیلا ہو
کس نے کس کا سمجھا دکھ
کبھی ہنستا کبھی روتا رہا ہوں
دوست بھی یاں رقیب ہوتے ہیں
کھویا کھویا رہتا ہوں
غموں کے بوجھ کو اس طرح ہلکا کیاکر وں یا رب
زمانہ او ر زمانے کے بعد کیا ہو گا
موسم گل حیران کھڑا ہے
ایک دیکھی ہو ئی خوشبو مہکے
عذاب رت میں جو اترے وہ کیا صحیفے تھے
اس زبانِ نکتہ سنج کو روکنا اچھا لگا
پانی اتر گیا ہے نجانے وہ کیا ہوئے
ہر بات اس کی قول کسی کا کہا ہو
صحن گلزار میں یوں پھولوں کے زیور چمکے
اک زو ر سے پھر درد کا طوفان اٹھا ہے
میرے لیے صورت ہے یہ خوش کن بھی عجب بھی
پتھر مرے و جو د پہ برسے تمام عمر
ہر صف الٹی ، لشکر زخمی ، تیر نشانے دیکھے
رنگ اپنے خون سے ان میں دوبارہ بھر دیے
پر ند ے ہجرتیں کرنے لگے ہیں
ہر نفس موج بے تاب کی اک صورت ہے
جو درد مری روح میں پھیلا نہیں ملتا
چشمِ پر نم نے کہا سارا فسانہ میرا
اہلِ سخن کی شوخیِ فن حق شناس سے
حرف کچھ بھی نہ تھے نعت کے واسطے
امی لقب سے نسبت بانٹی مجھ کو یاد رکھا
ہم نے کھینچے لاکھ نقشے نعت کے
لفظ بے کار ہیں نعت کیسے کہیں
لاکھ لفظوں پہ مجھ کو قدرت ہے
حمد و نعت
ناسک اعجاز
نرگس جمال سحر
عاکف غنی
کلیم احسان بٹ
حسن شعلہ مثال کے پرچم
سوچوں کے سنسان سفر پر
جب تک تیرا خیال مرا ہم سفر نہ تھا
حرف کچھ بھی نہ تھے نعت کے واسطے
امی لقب سے نسبت بانٹی مجھ کو یاد رکھا
ہم نے کھینچے لاکھ نقشے نعت کے
لفظ بے کار ہیں نعت کیسے کہیں
لاکھ لفظوں پہ مجھ کو قدرت ہے
ساغرشہزاد
مرا کعبہ مرا سجدہ میری جنت تم ہو
نصیب ہو تو در اوج مصطفٰیﷺ چوموں
مرثیہ و منقبت
مولا لکھوں امام لکھوں مرتضی لکھوں
بقائے عظمت انسان ہے پیام حسین
وہ قادری ہو یا پھر صابری حسین سے ہے
صفدر ہمدانی
پروین شاکر
ناسک اعجاز
عاکف غنی
مسعود مُنور
ساغرشہزاد
مولا لکھوں امام لکھوں مرتضی لکھوں
بقائے عظمت انسان ہے پیام حسین
وہ قادری ہو یا پھر صابری حسین سے ہے
غزلیات
آتش لکھنوی
احمد شمیم
ڈاکٹر ابرار عمر
احمد فراز
امجد اسلام امجد
احمد ندیم قاسمی
انورزاہدی
پروین شاکر
تسلیم الٰہی زلفی
تعارف اللہ خاوری
ثریاشہاب
جعفر رضوی
حسن عباس رضا
خاور چودھری
دلشاد نسیم
زرقا مفتی
رفیع رضا
ساغرشہزاد
گماں سے بدگمانی کا سفر ہے
جانور دشت میں کم ڈرتے ہوئے رہتے ہیں
آئنے ڈرنے لگے عکس بشر سے یارو
تیرے خیال کی حد سے بھی ماورا ہو گا
بہت آگے نکلتا جا رہا ہوں
گوہر فشاں ہے کس کے لئے چشم تر نہ پوچھ
سرور عالم راز سرور
غم دنیا جو نہ ہو گا غم جاناں ہو گا
جو چشم کرم ہے وہ زمانے کے لئے ہے
صبح سے ہو گئی ہے یارب شام
ہمیں زمانہ ہوا آپ سے وفا کرتے
عمر بھر رویا کئے ناکامیاں دیکھا کئے
دل شوریدہ خو کی خون افشانی نہیں جاتی
رسوا رسوا سارے زمانے
دل نے کسی کی ایک نہ مانی!
یوں آفتاب شوق شب غم میں ڈھل گیا
صبح کو ہم یوں شام کرتے ہیں
تیرا گزر ادھر جو برنگ صبا ہوا
دل کی دنیا بسا گیا کوئی
بات کیا ہے تری گزر نہ ہوئی
ہمیں یاد آیئں اکثر تری دلبری کی باتیں
دیکھنا ہے کہ وہاں سامنے کیا آتا ہے
صفدر ہمدانی
سعادت سعید
عابد جعفری
عارف فرہاد
عاکف غنی
عباس تابش
فرحت عباس شاہ
عتیق الرحمن صفی
کنور امتیاز احمد
فرزانہ خان نیناں
فیض احمد فیض
فرخندہ رضوی
وصی شاہ
ماہ پارہ صفدر
محسنہ جیلانی
مبشر سعید
محمد ہارون عباس قمر
مسعود منور
محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے
کبھی پگڑی اُچھلتی تھی،مگر اب وِگ اُچھلتی ہے
فرض کر لو کہ ہم مسلماں ہیں
ناسک اعجاز
نرگس جمال سحر
نوشی گیلانی
منیر نیازی
سید تفسیر احمد
ناصر کاظمی
اعتبار ساجد
عنبرین صلاح الدین
علی حسن شیرازی
عبدالمجید عدم
ماجد صدیقی
رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے
پت جھڑوں میں کیا سے کیا یاد آئیاں
اپنے گھر میں جبر کے ہیں فیضان کئی
ے جو ہشیار تھا ، دیکھا چھین لیا
اِک زمانے سے بہ وجہِ قحطِ زر، ناراض ہیں
اظہار کو تھا جس کی رعونت پہ گماں اور
وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے
م خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے
دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا
جبر وہ کیا ہے جس سے آ نکھ چرانے لگے ہیں
اس نے بھی جو زہریلے دشمن پر اب کے جھپٹا ہے
یہ کیا؟ کچھ کہنے کے بعد ہی سوچا جائے
ہمارے گرد ہے کیا جال سا یہ چالوں کا
ہونا کیا ہے اِس کے شور مچانے سے
وقت کی دھن پر لپکتی زندگی، رک جائے گی
وقت دکھا دے شاید کوئی بھولی بسری شام
وہ چنچل جب سے میرا ہو گیا ہے
وہ کہ اجڑے ہوئے جوڑوں میں سجائے جائیں
ناحق پہ بھی لاریب گھڑی آئے گی کچھ اور
نہ ابتدا سے نہ انجامِ ناگہاں سے سنی
ملا ہے تخت کسے کون تخت پر نہ رہا
مزرع دین میں اگتے ہیں اصنام مرے
مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِداکر دی
لٹ جانے کے خدشوں سے دو چار ہوئے
لگے ہے اپنے یہ دن،چلچلا جیسے ہیں
گیا تو باغ کا رشتہ فنا سے جوڑ گیا
گھٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے
کیا خبر کیا کچھ کوئی دیکھے یہاں
کھیتیاں خشک اور آبیانے وہی
کوئی نشانِ سکوں آنکھ کی فضا میں نہیں
کب مہاجن نجانے بگڑنے لگیں
قاتل تھا جو، وہ مقتول ہوا
فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے
صحنوں کی گھٹن شہر کا مِینار نہ جانے
شہر پہ جانے کس افتاد کی گھڑیاں آنے والی ہیں
شبِ سیہ میں جگنو سا جو نگاہ میں ہے
شاہیں پہ بندھ رہا تھا نشانہ، کمان کا
سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے
سرفرازی بھی دے خجالت بھی
سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے
زد پر جب اس کی میں حدِ جاں سے گزر گیا
رہن جن کے عوض ہو متاعِانا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں
رت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے
راگنیوں سے بے بہرہ سر تالوں جیسے
ذِی نفس جو بھی ہے اس کو جان کا کھٹکا لگا
دل سے تیروں کا اور کمانوں کا
دامن دامن بھیگ چلا ہے آنکھیں ساری بے نم ہیں
دھوکا تھا ہر اِک برگ پہ ٹوٹے ہوئے پر کا
دھچکے ابھی کتنے ہیں ابھی کھائیاں کیا کیا
خلق چاہے اسے حسین کوئی، وقت با صورتِ دگر دے دے
خلقتِ شہر کو بے زباں دیکھنا
خاص ہے اس سے جو اِک دا چل جائے گا
جس کا ہر منظر مرتب ہے نئی آفات سے
جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے
جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں
جتنے کمتر ہیں یہ کہتے ہیں، خدا نے کیا کِیا
تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے
پتا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں
اپنے گھر میں جبر کے ہیں فیضان کئی
اپنے گھر میں جبر کے ہیں فیضان کئی
اِک زمانے سے بہ وجہِ قحطِ زر، ناراض ہیں
اظہار کو تھا جس کی رعونت پہ گماں اور
ناہید ورک
تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ
اس کے حصارِ خواب کو مت کربِ ذات کر
گر ہے تو لمحہ لمحہ یہی اک ملال ہے
جسم و جاں کے زنداں میں روشنی کی خواہش کی
بے شک گزر رہی ہے مسلسل عذاب میں
کب ہمیں تمنا تھی آنکھ میں بسانے کی
میری صبح میری رات رہنے دیتے
ہوا چپ ہے صدا چپ ہے
اگر مل سکے تو وفا چاہیے
بد گمانی کا ذرا پردہ ہٹا کر دیکھیئے
سوچتے رہتے ہیں ہر دم جو ضرر کی باتیں
وہ نہیں جانتے جب وفا، کیا کریں
نغمہ بن کے ہونٹوں پر ان کے جو بکھر جاتے
رہتا ہے مری تاک میں آزار کا موسم
ہم جہاں بھی جدھر بھی جائیں گے
تیرے ہوتے ہوئے اکیلی ہے
تعبیرکچھ تو ہو کبھی میرے بھی خواب کی
سماعتوں کا یہ اعجاز دیکھتی ہوں میں
جب سے ادراک و ہنر کا مجھ پہ در وا ہو گیا
گر دل سے بھلائی مری چاہت نہیں جاتی
تمام عمر ہمی کیوں رہے وفا کرتے؟
ہوئی ہیں گویا گلاب آنکھیں
ہمیں تیری محبت میں کمی اچھی نہیں لگتی
سنتے تھے بیوفائیاں تیری
سای گل میں رہوں محوِ خراماں ہمدم
پچھلی رت کے شوخ زمانے یاد آئے
آنکھوں میں تیرتے ہیں جو خواب شبنمی سے
میرے احساس کے آنگن میں اتر جانے کا
تارِ مژگاں جو یوں نم سا ہے
آنکھ میں نمی کیوں ہے
میرے دل میں شور تیرا جب سے ہے
تجھ کو اک نغمہ بنانا چاہتی ہوں
ہر خزاں کو بہار کرتی ہوں
دل میں مچلتی ہے انجان خواہش
تیرا احساس پانیوں میں رہے
آنکھ سے غم نہاں نہیں ہوتے
چاندنی بن کے جب اس چاند کا سایہ نکلے
آپ کے دل سے نسبت سی ہونے لگی
تیری تصویر سے کروں باتیں
یہ جو لمحے گلاب جیسے ہیں
ہو فرقتوں میں وصال کیسے
دردِ دل ایسا بڑھا خود اپنا درماں ہو گیا
محبت کا کوئی اشارہ تو دے
تفسیر مرے سوال کا تھا
کڑی دھوپ کا جو سفر یاد آیا
دردِ دل زبان چاہتا ہے
کبھی سمجھ میں نہ آئیں گی چاہتیں میری
روز و شب اک ایک پل زخمِ جدائی دیکھئے
خواہشیں ہوتی ہیں کیا کیا بارشوں کی رات میں
دل کے ارماں روتے تھے بام و در کی یاد میں
کیا کہا، ۔۔یہ دل مرا نا قابلِ تسخیر ہے؟
تیری ہر بات رلاتی ہے مجھے رہِ رہِ کر
ابرِ ریشم کی طرح مجھ پہ وہ چھانے والا
رہِ الفت کی ہر منزل ترے دم سے ہی سر ہو گی
جب تلک میری زندگی باقی
بکھرتے ہی گئے سب خواہشوں کے ساز، کیا کرتے
پھر بہانے پرانے بناتے ہوئے
بہار آمیز یہ موجِ صبا کچھ اور کہتی ہے
مجھے زندگی کی صدا کہہ رہے ہو
زندگی تجھ کو مناں کب تلک
ردائے تن پہ میری داغِ رسوائی تو دیکھو
ہوا میں اڑتے ہوئے بادباں نہیں گزرے
تری یاد میں رہے دل مرا بے قرار کب تک
تھک گئے ہیں ہم تیرے روز کے ستانے سے
جی رہی تھی جسے اک جہاں کی طرح
رہنا تھا مجھ کو تیری نظر کے کمال میں
پھر تیرے خواب ٹانک دیے ہیں پلک پلک
جمشید مسرور
شام کو منڈی کے بے رونق در و دیوار میں
وہ روشنی۔ کہ مرے بچپنے کی دو پہریں
پھر درختوں نے گرائے خاک پہ پتے تمام
فغاں ہی آخری سچائی ہے غم کے ٹھکانوں میں
اپنا سرمای حیات ہے کیا
مجھے پچسیواں گھنٹہ مجھے اک آٹھواں دن دو
خوشی میں غم کی بھی اک داستاں ہے
سنگِ غمِ دل کا ایک بار ناشاد ہے مجھ کو
بڑھتی چلی جاتی ہے گر انباری انفاس
کلیم احسان بٹ
یہ جانتے تھے کہ ملنا اداس کر دے گا
یہ جانتے تھے کہ ملنا اداس کر دے گا
دل کے ٹوٹ جانے کا سانحہ نکل آیا
دل کے ٹوٹ جانے کا سانحہ نکل آیا
و ہ پر ی کی تھی نہ وہ جادو کی
وہ لگ گیا ہے جان کو آزار دوستا
دل لگی سی دل لگانے سے رہی
درد اظہار تک نہیں آیا
دیکھتا اک نظر تو کیا ہوتا
ہر آن کوئی قہر مرے سامنے پھر تھا
ہم سے پھر وعد ہ خلا فی ہو گئی
لازم تھی احتیا ط کی حد سے گزر گئے
کچھ سبب ہے یا یونہی وہ بے سبب مصروف ہے
مرا دیوان ہوتا جا رہا ہے
گھر چھوڑ کر مکین گھروں کے چلے گئے
شرح غم کیسے کریں لطف بیاں کیسے ہو
ہم پہ آیا ایسا وقت محبت میں
ہمارے لفظ بے تاثیر نکلے
دل کی باتیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں
کہیں آنکھوں میں خوابوں کا نگر تعمیر کرتے ہیں
اس کا چہر ہ یاد نہیں ہے
حیلوں کے ساتھ تھی وہ مثالوں کے ساتھ تھی
سو رنج و الم کھینچے ہیں سو درد سہے ہیں
اس سے تعلقات کی حسرت بھی کچھ نہیں
تمھار ا سانس بھی دشوار کر دیا جا ئے
کتنا شیریں بیان لگتا ہے
آیا کرو ، بیٹھا کر و اور حال دل پوچھا کر
تیرے کو چے کہاں گزرتی ہے
درد ٹھہرے تو بات کرتے ہیں
دل سے صبر و سکوں روانہ ہو
ہر دل سے نکل جانے کا امکان کھلا رکھ
شاخوں میں اڑی دھوپ ہے اے ظل الہی
تمھاری زلف سنورنے میں د یر لگتی ہے
وہ خوا ب تھا جو مری چشم تر کی قید میں تھا
جس کی خواہش پر وطن سے دور جا نا پڑ گیا
مجھ کو آتا نہیں ظالم کی اطاعت کرنا
اپنی جیب اور گھر کا خرچہ دیکھ رہے ہیں
در و دیوار کو تاروں سے حسیں کیسے کریں
روگ دل کا لگا کے بیٹھ گیا
میر ے بت کو کر کے زندہ لے جائے گا
حسن شعلہ مثال کے پرچم
ہر نقش اس کے چہرے کا سادہ رکھا گیا
شہزادہ جب چوتھی سمت کو جاتا ہے
ہر قدم منادی ہے زندگی کے رستے میں
پہلے سے بھی کڑی ہے وہی نامراد رات
چل مدح شا ہ میں ہم بھی کریں خون دل کشید
جب بھی گفتار لے کے آیا ہے
گھر کے اندر گھر بنا کے اور بے گھر ہو گیا
جب تقدیریں بن جاتی ہیں
بے فصیل شہروں میں بے امان بستی میں
چر مراتے خشک پتے اک ہوائے تیز میں
چلو باغوں کو چلتے ہیں
یہ ایک ایک اذیت سے آشنا دل ہے
وہ بھی ا یسے سنورتا آتا ہے
جب درد کے مضموں نہیں ہوتے مرے مرشد
ہم کسی شخص کو آزار نہیں دے سکتے
تھا مرے سامنے دشمن میر
کتنے رشتوں میں باندھے ہوئے لوگ ہیں
مری حا لت پہ سوگوا ر نہ ہو
ہمارے ہا تھ ہو تی ہی نہیں ہے
ا س کے لہجے میں ایک خو ش بو ہے
دل کو دھڑکا ہز ا ر رہتا ہے
مشقت کر کے لوٹا ہے کوئی دکھ نہ اسے کہنا
مرے لشکر کے کماندار مرے قاتل تھے
عین ممکن ہے کبھی کم نظری سے گزریں
کوئی علا ج یہاں چارہ گر نہیں ممکن
اک عجب سی کیفیت طا ر ی رہی
ہوا کے ہاتھ میں حیرت تھی اور کچھ بھی نہ تھا
اپنے بوجھ کو ڈھوتے آدمی تھک جاتا ہے
ہزار صدق و صفا ہے سرشت میں اس کی
اس قدر با ندھنا بھی مشکل ہے
حال ہی دل کا مرے ایسا تھا پچھلی شام کو
کتاب زندگی کے باب کتنے
تا دیر پر یشا نی کے عالم میں رہو گے
ہم سے پھر شمس و قمر چھین لیا
اڑتی تھی خاک شہر میں اتنا تو یاد تھا
بیکار گیا میں نے جو ہتھیار خرید
ہر کوئی بے ا مان بیٹھا ہے
اک اک کر کے پنچھی ا ڑ تے ر ہتے ہیں
وہ چاند کا ملبوس وہ تاروں سے سجے خواب
ہم ترے کوچے میں آئیں ا تنے سودائی نہیں
ٹھہر کے دیکھتے ہیں قافلے سفر والے
پورے جو بن پر سورج تھا اور وہ رستہ ڈھونڈ رہا تھا
ہل رہے ہیں چند پتے شاخ پر
سبز جنگل میں کسی مور کا پر کھلتا ہے
ترا ملنا بھی کوئی کھیل نہیں لگتا ہے
کبھی فا قہ کبھی لقمہ ملا ہے
د و دو د ر وا ز ے تھے تین دریچے تھے
خواب بہہ گئے سارے ریت کے گھروندے میں
شعر حسن و کمال سے اترا
متا ع درد و غم ہے اور میں ہوں
قاتل لمحہ تاریکی میں مٹ بھی گیا ہے
یہ ر ا ئیگا نء ر نج سفر یہی کچھ تھا
شاہز ا دے کو کسی حربے سے کالا کر دیا
اک شہر غریباں میں فقیروں کی طرح تھے
اسے دیکھے زمانہ ہو گیا ہے
ہوا دیوار و در سے جھانکتی ہے
چاند پر سوت کاتنے والی
میرے آنگن میں وہ خوشبو کی طرح مہکا رہا
عمر بھر بھیگنے کی خواہش تھی
ترا اپنا طریقہ تھا مرا اپنا طریقہ تھا
اپنے ہاتھوں میں کدالوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا
وہ بچپن کا سا تھی تھا
جہاں حرفِ تمنا لکھ رکھا تھا
ہم نے کن مشکلوں سے ٹالا ہے
دل جو ٹوٹا تو دیر تک روئے
پانی پر بنیاد رکھی ہے
کسے کہیں کہ ہمیں در د دل ستاتا ہے
ا سے ہے عادتِ تعجیل ہو نہیں سکتا
ہم سخن فہم کہاں اس سے بھی کچھ کم تر تھے
کبھی ایسا بھی آسماں دیکھیں
ایک کے بعد دوسرا دے گی
آرام سے اک بات بھی سنتا ہی نہیں ہے
رقص کا روپ دھار کر دیکھو
حق نے کبھی بھی اس کو مجدد نہیں کیا
ورق پہ نام جو ، پڑ ھتا تھا خواب چہرے سے
آتا ہے دعاں سے ، دعاں کو بھلا کے
دلیل دیتا ہے نہ خود قبول کر تا ہے
تیرے دروازے پہ آیا تھا صدا کی میں نے
بساطِ تارِ نظر میں جو شکل یار نہ تھی
دلوں میں سیلِ تمنا کی شورشیں لے کر
جیسے ہر آن کوئی مرتا ہے
اک خون کا د ر یا ہے کہ تا حد نظر ہے
آدھا دھڑ انسانوں جیسا آدھا دھڑ تھا پتھر کا
اچھے لوگو ں سے گفتگو رکھنا
سوچوں کے سنسان سفر پر
کبھی کٹتے ہوئے سر بولتے ہیں
بے حقیت اپنا ہونا یا نہ ہونا رہ گیا
سبھی اصول سبھی تجزیے بدل جائیں
لے اب ترکِ محبت کر رہا ہوں
قتل بھی کرتا نہیں جانے و ہ قاتل کیا تھا
تیری آنکھوں سے اب غمزے اشا رے کیوں نہیں ملتے
یہ دعا ہے کہ مرا حرفِ دعا راز رہے
تری گلیوں کا تھا گدا میں بھی
جسے حرف غم نہ سنا سکا ترا غم گسار ہے بھول جا
یار جانے گمان کیا کرتا
ایو ں تو پاگل بنتا ہو گ
وہ مہرباں بھی ہوا تھا نہ مہر باں ایسا
جب شکستہ مرے دل سے بھی گریباں نکلا
آئے ہمارے ذہن میں آ کر بکھر گئے
زمیں کو گھومتا رکھا گیا ہے
اب نصیبوں میں فقط اک روسیاہی رہ گئی
اشکوں سے بھر گیا ہے جو دامن بہار میں
جبر یا اختیار میں رہنا
حسرت یک نظر میں بیٹھے ہیں
حرف کو معتبر ہی رہنے دو
لمحہ لمحہ حادثہ د ر حادثہ پھیلا ہو
کس نے کس کا سمجھا دکھ
کبھی ہنستا کبھی روتا رہا ہوں
دوست بھی یاں رقیب ہوتے ہیں
کھویا کھویا رہتا ہوں
غموں کے بوجھ کو اس طرح ہلکا کیاکر وں یا رب
زمانہ او ر زمانے کے بعد کیا ہو گا
موسم گل حیران کھڑا ہے
ایک دیکھی ہو ئی خوشبو مہکے
عذاب رت میں جو اترے وہ کیا صحیفے تھے
اس زبانِ نکتہ سنج کو روکنا اچھا لگا
پانی اتر گیا ہے نجانے وہ کیا ہوئے
ہر بات اس کی قول کسی کا کہا ہو
صحن گلزار میں یوں پھولوں کے زیور چمکے
اک زو ر سے پھر درد کا طوفان اٹھا ہے
میرے لیے صورت ہے یہ خوش کن بھی عجب بھی
پتھر مرے و جو د پہ برسے تمام عمر
ہر صف الٹی ، لشکر زخمی ، تیر نشانے دیکھے
رنگ اپنے خون سے ان میں دوبارہ بھر دیے
پر ند ے ہجرتیں کرنے لگے ہیں
جب تک تیرا خیال مرا ہم سفر نہ تھا
ہر نفس موج بے تاب کی اک صورت ہے
جو درد مری روح میں پھیلا نہیں ملتا
چشمِ پر نم نے کہا سارا فسانہ میرا
اہلِ سخن کی شوخیِ فن حق شناس سے
حیدر قریشی
خلاف دنیا کی کیا کیا گواہیاں نہ گئیں
پیاسے سمندروں کی طرح تَیرتے رہے
کچھ کہہ رہی ہے پھر مِری افسردگی مجھے
مِرے بدن پہ ترے وصل کے گلاب لگے
لفظ تیری یاد کے سب بے صدا کر آئے ہیں
عجیب کرب و بلا کی ہے رات آنکھوں میں
نظم
احمد فراز
احمد شمیم
امجد اسلام امجد
ڈاکٹر ابرار عمر
بدیع الزمان
انورزاہدی
پروین شاکر
جعفر رضوی
خاور چودھری
صفدر ہمدانی
سعادت سعید
دلشاد نسیم
رفیع رضا
زرقا مفتی
عارف فرہاد
کنور امتیاز احمد
عتیق الرحمن صفی
فرحت عباس شاہ
ماہ پارہ صفدر
فیض احمد فیض
محسنہ جیلانی
محمد ہارون عباس قمر
ناسک اعجاز
نرگس جمال سحر
نگہت نسیم
نوشی گیلانی
وصی شاہ
ابن آدم
مسعود مُنّور
ترکِ وطن کی ایک نظم
اندیشہ ہائے عہدِ فساد
شہادت دے دن دا نوحہ
عوامی فرمان
منیر نیازی
سید تفسیر احمد
ناصر کاظمی
اعتبار ساجد
عنبرین صلاح الدین
علی حسن شیرازی
عبدالمجیدعدم
ناہید ورک
بے مہر رفاقت
رشت جاں ٹوٹنے پر۔ ۔ ۔
اے طلب زاد
میں خود کی خواہش میں رہنا چاہتی ہوں
یاد
فیصلہ
بے بسی
شام اسے بتانا
مرے ہم نشیں
سوال
ابا جی کے لیے
امی اور ابا جی کے لیے
اے ہم نفس بتا تو۔ ۔ ۔
میرے اندر خاموشی بولتی ہے
جمشید مسرور
اب بھی وہ دریا یاد ہے مجھ کو
مڑنا چاہوں بھی تو اب مڑنے کی کوئی راہ نہیں ہے
ہستی کے کہرے سے کسی کے ہاتھ نہ کچھ بھی آئے
نکل جاں گا اس کمرے سے میں
نہیں ہے چیز کوئی کار گر سمجھوں تو کیا سمجھوں
چھپا ہے اندحیرے میں دیکھو
کوئی نہیں ہے
یہ تصویریں
جب سورج دشمن ہو جائے دریا سے پناہیں مانگتے ہیں
برف کے گرنے کا اور اندازہ ہے اب کے برس
ہمیں بے کار مرنا ہے ہمیں بے کار جینا ہے
یادوں کو اماں ملے نہ یارب
ابھی سب کچھ نہیں دیکھا
مری موت میری نہیں دوسروں کی بھی ہے
مجھے ہر دم تلاش لمح بیداد رہتی ہے
کلیم احسان بٹ
مزاح
نرگس جمال سحر
حشام احمد سید
میں ہوں نقاد کہ جلاد مجھے تم جان لو پیارے
قطعات
شمس جیلانی
عاکف غنی
مسعود مُنور
شریعت سے شریّت تک
حکمراں کیسے کیسے
عارف فرہاد
بدیع الزماں اعظمی
نوجوان شعراء کی شاعری
ندیم اشرف
ہمایوں خان ہمایوں
محمد عارف ضیاء
احمد فواد
کسی نے بھی تو محبت کی داستاں نہ سنی
دو دن میں پھیل جائے گی اس درد کی خبر
زمیں سے خوب لڑا آسماں سے کچھ نہ کہا
وہ اس زمین پہ رہتی تھی آسماں کی طرح
اداسیوں نے بنائے ہیں گھونسلے اس میں
صحرا میں گھومنے کا مجھے یونہی شوق ہے
اس لڑکیوں کی بھیڑ میں لیلی نہیں کوئی
وہ مہر منور ہے کہ یہ ماہ مبیں ہے
کہیں پہ جاکے محبت کو دفن کر دوں گا
جب اونچے پہاڑوں سے اتر آتے ہیں دریا
دنیاکی کسی بات کا قائل تو نہیں ہوں
احمق ہیں جو کہتے ہیں محبت کی جگہ ہے
بھولے سے بھی آئے نہ کوئی چاہنے والا
تمہارے لئیدل میں اب بھی جگہ ہے تمہیں کیاپتہ ہے تمہیں کیا خبر
نکلو گے مرے دل سے تو جل جا گے فورا
مٹی سے اٹھا کر مجھے خورشید بنایا
دریاں کی گپ شپ کا نشہ ایسا چڑھا ہے
چھپا ملا تھا جو اک خواب کی رداں میں
میں سوچتا تھا کسی دن تجھے بھلا دوں گا
سوال ایک تھا لیکن ملے جواب بہت
چاند تارے ناچتے ہیں دف بجا کر خواب میں
دل کہاں جائے بچارہ زندگی مشکل میں ہے
انتا ہوں میں یہ سورج کا دیا بجھ جائے گا
محبت پر یہاں پہرہ رہے گا
یہاں ہر وقت یہ میلہ رہے گا
نہیں قبول مجھے آفتاب کی مرضی
جس کو اپنانے میں اک عرصہ لگا
شہر کی اس تنگ دامانی سے یہ دل تنگ ہے
گھر کے باھر گھر کے اندر جو بھی ہو
بارشوں کے گھر بساتے ہیں پرندے اور درخت
ہے سمندر کہیں چلاتی ہوا ہے پانی
اب آسمان کے آگے نہ ہاتھ پھیلانا
بدل گیا ہے وہ فرسودہ عاشقی کا نظام
چاہنے والے خوب جیتے ہیں
تری نگاہ کا نیلم ترے لبوں کے عقیق
دل میں پوشیدہ کیا خزینے ہیں
عالمِ نزع میں اب تیرہ شبی لگتی ہے
چھوڑ کر وہ جہاں چلا آیا
اپنے گھر کو بھی کہیں آگ لگاتا ہے کوئی
تجھ تک آنے کے لئے ہے یہ نشانی کافی
بہہ رہی ہے قریہ قریہ کوبکو
یہ دل پاگل۔ ۔ ۔
آفاق کے کنارے ۔ ۔ ۔
پانیوں کو جانے کیوں
گھوڑا گلی میں ایک شام
سبا تینی سبا تینی*
اور
فواد احمد
وہ دبدبہ نہ اجالا نہ شان و شوکت ہے
زمین ان کی ہر اک بات مان لیتی ہے
سمندروں سے کوئی کام ہی نہیں پڑتا
تمہارے لئے مسکراتی سحر ہے
تمہارے لئے مسکراتی سحر ہے
ہمارے دل کی بجادی ہے اس نے اینٹ سے اینٹ
میں کس کے کہنے پہ اس خاکداں میں آیا ہوں
ہوا نے چھین لیا آکے میرے ہونٹوں سے
پھر آسمان کے نخرے اٹھا رہا ہوگا
ان نگاہوں کو ہم آواز کیا ہے میں نے
بن ٹھن کے رات آتی ہے ہر رات اس کے پاس
نیلا اسی لئے نظر آتا ہے آسماں
سنتا ہے کوئی بات نہ کہتا ہے آسماں
تیری گلی میں ظرف سے بڑھ کر ملا مجھے
سارا شگفتہ
قید خانہ شروع ہوتا ہے
میرے تینوں پھول پیاسے ہیں
بیساکھیاں
چاند کتنا تنہا ہے
میں اپنی دیوار کی آخری اینٹ تھی
رات چٹکی بجاتی ہے دن کی پور سے
مجھے پتھر کی آنکھ مت دینا
باہر آدھی بارش ہو رہی ہے
موت کی تلاشی مت لو
کوئی کپڑے کیسے بدل گیا
دو گھونٹ پیاس اور
ہونٹ میرے گداگر
قرض
نثری نظم
چاند کا قرض
چراغ جب میرا کمرہ ناپتا ہے
پرندے کی آنکھ کھل جاتی ہے
سنگِ میل پہروں چلتا ہے
آنکھیں دو جڑواں بہنیں
اے میرے سر سبز خدا
رنگ چور
شیلی بیٹی
طارق بٹ
نیم گفتہ
ققنس
زنانِ خوش باش
فریب خود کو دیا خود ہی آہ و زاری کی
وہ مری خوش لباس کیسی ہے
اپنے اندر کے اندھیروں کو مرے ساتھ نہ کر
اس فریبندہ کی چاہت کرنا
دوسروں کی پرکھ تجربہ اور ہے
تھا سخن میں ترے بانکپن اے ذکا
راستے طے تھے ستاروں کی طرف دیکھتے کیا
کہیں تو چھوڑ گیا ہو گا کچھ نشاں اپنے
خوش منظریِ شوق سے تصویر ہوا تھا
ہردم ہے خود سے بر سرِ پیکار زندگی
پوریں زخمی ہو جاتی ہیں ، تار سے تار ملانے میں
اگروہ محبت کا اقرار کرتی
فاصلے کا درد
اے یار تری بات میں پیچاک بہت ہے
شناخت
نطقِ انساں
کوئی پل ہے کہ
جال
یونہی سہی
کچی قبریں
خا موش نہیں ہوتا
دلہن
رستہ بھی مسافر بھی
زندگی
دکھن
لمحہے
سوالی
آ بھی جا
خوئے تعبیر
المیہ
حوصلہ دے مجھے
تجسیم
بلاو ا
بلاو ا
خامشی رنگ ہوئی جاتی ہے دھیرے دھیرے
ہمسفر
لب ترستے ہیں
خوشبو کی طرح رنگ سرابوں سے گزر جا
عجیب شخص ہے خود فاصلے بچھاتا ہے
کھنک رہی ہیں گزرتے دنوں کی زنجیریں
ہر کسی کے تجربے سنتا ہوں میں
منظرلکھنے پڑتے ہیں
رنجِ رائیگاں
وحشتوں میں ایک وحشت نام کی
کچھ یار اپنے نام کے اعلان میں مرے
اے خوئے اضطراب! کیا یار سے جدا
بات کرتا ہے مسکرا کر ایک
خواب کھلی آنکھوں میں بوئے جاتے ہیں
ترا خیال مرے دل سے چھٹ گیا شاید
جو دل میں ہے مرے لب پر دعا نہیں ہے وہ
میں تیرے ذہن میں بنتے قفس سے باہر ہوں
جذبات میں وہ پہلے سی حِدت نہیں رہی
ضبط کنارا اونچا تھا
میٹھی سی کوئی بات سنا کر لے جائے
دکھ میں اپنی ذات سنائی دیتی ہے
رات بھر پلکوں پہ تارے جاگے
آشنا اجنبی
پسِ یک عمر،ِ ہر دن کی کہانی یاد آئی ہے
پچھتا وا
خالیآنکھیں
اس نے کہا ہے۔۔۔!
جلوے ہیں آشکار عجب روپ رنگ سے
زندگی کر، عشق سرشاروں کے بیچ
کیا کہا؟ بھول گئے ہیں اس کو؟
وہ میری ایک رت بھی امر کر نہیں سکا
کسی بھی رت کا یہ پابند تھوڑی ہوتا ہے
خموش تو ہو، مگر ایسا بے صدا بھی نہ ہو
نگہِ اعتبار میں آئے
ذرا سی جنبش پر کا مآل دیکھتے ہو؟
عجب آدمی تھا یہ قیس بھی بڑا کام کر کے چلا گیا
کل رونق خیال تھا تیرا دلہن بدن
رہ دور مجھ سے
تم بھی تو دیکھو مجھ کو
ممکن ہے جو تم سے کہا ہے، جھوٹ ہو سب افسانہ ہو
اس علاقے میں دل ستاں ہے کون
مجھے تو درد کا چہرا دکھائی دیتا ہے
درد شعلہ بنا دیکھتے دیکھتے
دونوں منظر ہیں ۔۔۔۔
آنکھ جو اٹھے ۔۔۔۔۔
اب ملاقات ہو تو ایسے ہو
جو سچ پوچھے
سانحہِ/ اکتوبر ِ
نہیں جاتا ہے غم نہیں جاتا
کہاں کہاں سے مٹائے گا! خوش گماں میرے
دل کی جانب ابھی تک دھواں سا ہے کیا
عشق اور سمندر
محبت کی بانی بھی لکھے گا کوئی
دوست، دشمن کو بتانا کہیں پڑ جاتا ہے
حجر غم گسار میں آجا
محبت مر نہیں سکتی
سب پوچھتے ہیں ، کون ہو ؟کہتا ہوں ، تم کو کیا
خوابِ آخریں
منظر بدلتے جاتے ہیں
اتنی دیر
تم بھی تو دیکھو مجھ کو
ممکن ہے جو تم سے کہا ہے، جھوٹ ہو سب افسانہ ہو
د شعلہ بنا دیکھتے دیکھتے
سفر ہی ختم ہوا اور نہ راستہ ٹھہرا
سفر ہی ختم ہوا اور نہ راستہ ٹھہرا
سفر ہی ختم ہوا اور نہ راستہ ٹھہرا
سفر ہی ختم ہوا اور نہ راستہ ٹھہرا
اس علاقے میں دل ستاں ہے کون
تم کیا جانو
دونوں منظر ہیں ۔۔۔۔
رنج تو نے وہ بار بار دیے
وہ خدا تو نہیں
آنکھوں میں انتظار کی اک پیاس بو گئیں
وہ اجنبی سا آشنا
اطیب اعجاز
کرم خواہی کے بل بوتے پہ دیوانے نہیں آئے
میری کو تاہیاں بھلا دے گا
بوئے گل بن جاں گا بادِ صبا ہو جاں گا
جب سے بھایا ہے آپ کا چہرہ
ان کی یادیں بارشیں پر وائیاں
یوں نہ غم خان ظلمت میں اچھالو مجھ کو
یہ زمین اپنی ہے اور نہ آسماں اپنا
وقت نے لوٹے ہیں ہستی کے خزانے کتنے
تازہ ہوا نہ آئی دریچہ کھلا رہا
مرے بھائی مری خاطر تو دل چھوٹا نہ کر اپنا
دل کی دہلیز پہ دلبر آیا
ہم کو یہ نظر آیا دوستوں کی صورت میں
اسی کا نام شاید ربطِ باہم کا تماشہ ہے
کشمکش تھی رنج و غم کی انتہا تھی میں نہ تھا
ملے ہیں جسم ،دلوں میں خلا ابھی تک ہے
پھول ہوا شبنم سب کچھ تیرا ہے
اپنے چہرے پہ زلفیں گرا دیجئے
کیفیت دلوں کی کب لڑکیاں بتاتی ہیں
عشق کو جذبہ و احساس کی دولت سمجھو
دھڑکنوں میں یادوں کا جب چراغ جلتا ہے
دل پہ یادوں کا بوجھ طاری ہے
آپ نزدیک آنے لگے
غمناک زندگی میں ذرا بھی خوشی نہ ہو
پھول مہکے، چاندنی تھی ، کیا نہ تھا
نور میں ڈوبا ہوا ہے قلب کا میخانہ آج
میرے حق میں برا نہیں کر تے
ہم نے غیر کے در کو آسرا نہیں سمجھا
سجائے رکھا ہے ایسا سراب آنکھوں میں
کبھی مئے خانے بگڑتے نہیں دیوانوں سے
جانِ جاں آج یہ غضب ہو گا
کیسے کر پا گے برباد بیابانوں کو
گماں کے تن پہ یقیں کا لباس رہنے دو
بدلے میں پیار کے مجھے رسوائی دے گیا
حمد باری تعالی
حمد باری تعالی
حمد باری تعالی
موضوعاتی کلام
ویلنٹائن ڈے
سالگرہ
حادثات
فراق
عید
والدین
شخصیات
دوہے
خاور چوہدری
نوحے
امام علی علیہ السلام
فرخندہ رضوی
No categories or articles found.
Search
Advanced Search
اصناف
شعراء کی فہرست حروف تہجی سے
حمد و نعت
مرثیہ و منقبت
غزلیات
نظم
مزاح
قطعات
نوجوان شعراء کی شاعری
موضوعاتی کلام
دوہے
نوحے
فرخندہ رضوی
No categories found.
Your Favorite Poetry
من و تو
View All Favorites
...آپ نے ابھی دیکھا ہے
راکھ میری ھر طرف اڑا دینا
کہا !چاند میں توڑ کے لائوں گا !
دل نے کسی کی ایک نہ مانی!
عمر بھر رویا کئے ناکامیاں دیکھا کئے
زیادہ پسند کئے جانے والے شعراء
ڈاکٹر ابرار عمر
نگہت نسیم
احمد فراز
پروین شاکر
کلیم احسان بٹ
فیض احمد فیض
طارق بٹ
امجد اسلام امجد
فواد احمد
ماجد صدیقی
صفدر ہمدانی
سرور عالم راز سرور
عارف فرہاد
عتیق الرحمن صفی
اعتبار ساجد
ناہید ورک
مسعود مُنور
نرگس جمال سحر
وصی شاہ
فرحت عباس شاہ
No popular authors found.
پسندیدہ شاعری
کوئی تو ھے جو میرے لہو میں بولتا ھے
کٹھن ہے راہگذر تھوڑی دور ساتھ چلو
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کُھلتیں
اک ادھورا سا خواب ہو جیسے
محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے
میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
میری نظر سے جب تم خود کو دیکھتے ھو گے
اِک روز کہا لیلیٰ نے
ھو سکے تو اپنے آنے سے پہلے خود کوبھیج دو
گونگی عورت
تنہائی میں بھی تنہا نہیں رھتی ھوں
پھول سا اُسکا چہرہ
کس نے کیا پا لیا محبت میں
مجھکو میری عمر اور میرے خواب دے دو
کہا !چاند میں توڑ کے لائوں گا !
ھوا کی ہتھیلی پہ دعا ایک سجا دوں
کل رات ہم سخن کوئی بُت تھا خدا کہ میں
دیکھنا یہ ھے کہ اُس کو دیکھتا ھوں کس طرح
وہ رات جب کسی کے سر پہ چھت نہیں ھوتی
ھمارا یوں خالی ھاتھ رہ جانا ٹھیک نہ تھا
No popular articles found.
Our Newsletter
Enter your details below to join our email list and receive our newsletter.
First Name:
Email Address: