شاعری آن لائن
Home
SMS Guru
Urdu News
Al Qamar Blog
English News
Our Team
Site Map
Contact Us
View Blogs
شعراء کی فہرست
اپنی شاعری ارسال کریں
Account Login
Logout ()
Submit poetry
Submit Blog
My Account
My Submissions
سرورق
Site Map
Site Map
General Site Map
Al Qamar Blog
Contact Us
English News
Home
Our Team
Site Map
SMS Guru
Urdu News
شعراء
jawwad raza khan jami
Qasir Mahmood
Tashie Zaheer
ماہ پارہ صفدر
مسعود مُنور
ناسک اعجاز
یاسین طاہر
تعارف اللہ خاوری
جعفر رضوی
حسن عباس رضا
خاور چوہدری
رفیع رضا
زرقا مفتی
سید اعجاز حسین شاہ
شمائلہ نثار
عاکف غنی
غلام مصطفیٰ قاسم
No Poets found.
Articles by Category
شعراء کی فہرست حروف تہجی سے
ا
ڈاکٹر ابرار عمر
LOGIC
جنگ ابھی تک جاری ہے
DIFFERENCE PREVAILS
ایسی ویسی خبروں کا دُکھ سہتے ہیں
ابھی ساز ساز اُداس ہے
نظر رو رہی ہے سفر تھک گیا
اُداس آئینے کو ٹوٹنا گوارا تھا
صبا کو شوخ سالی میں کلی کی ہر ادا چاہے
مجھے اُڑنے کی خواہش اور سفر کا حوصلہ دے گا
تمہاری یاد سے لپٹاہوا ایک اور دن
دل کو پھر یاد وہی لوگ پُرانے آئے
چاند گرہن
ہائیکو
*MUDDY'Sمیں بیٹھ کر
بات بنانے نکلے تھے پر بات بنانا مشکل ہے
وہ میری آنکھ کے صحرا میں گھر بنائے تو
وہ اعتراف بھی کرلے اگر خطاؤں کا
سمٹ رہا تھا کوئی رات اور بادل تھے*
اندھیری رات کے ستارو !
روشنی تیری راہ دیکھے گی
وہ حقیقت میں مجھ کو بھولا تھا
خواب میں لکھی ہوئی ایک نظم
وہ جن رستوں پہ چل کے ہم نے منزل کے سہانے خواب دیکھے تھے
زندگی کو اک فسانہ چاہیے
BEAUTY
خموشیوں کو خبر مبارک
یہ کیسا سورج نکل رہا ہے
SWEAT
*NEW CAMPUS
کبھی جو جسم ترا عکس کو پکارے گا
سائبیریا
اس کی باتوں سے ایسا لگتا ہے
مرے کمرے میں جب آئی
اس کے آنے سے روشنی ہوگی
سائبیریا*
اُڑاتا جا رہا ہے کوئی اُڑتا جا رہا ہوں میں
پرندہ اور بھی اونچا اُڑے گا
مشکل کا مسافر*
اس کی باتیں ہیں موسموں کا سفر
جس کی تنویر سے ہے زمیں پر اُجال
اک زماں کی خبر ایک پل کی صدا
ہمارا دور تک کوئی نہیں ہے
اس کی آنکھوں سے 35سال بہہ رہے تھے* م
کسی کی ذات میں جھانکا تھا سبز موسم میں
ریت پر لکھا ہوں میں
آس نراش کا زخمی پنچھی آخر کب تک گائے گا
ریت پر لکھا ہوں میں
زندگی کا زندگی سے فاصلہ رہ جائے گا
DARK AND COLD AND LATE
ہم نے مانا لاکھ بہاریں آئیں گی پھر جائیں گی
ایک نظم لکھنے سے پہلے کا منظر
باہم جو فاصلے ہیں خوابوں کے سلسلے ہیں
محبت
رات گھائل ہے تو سحر خاموش
تم مری پیاس ہو
کیا تم کو وہ زمانے یاد نہیں آتے
مرے اندر بھی کوئی چیختا ہے
شام تک پھرتی رہیں ہجر کی ماری آنکھیں
ایک رات کے لیے بسایا ہوا گھر
جب بھی آتی ہیں خیالوں میں تمہاری آنکھیں
احمد فراز
امجد اسلام امجد
احمد ندیم قاسمی
احمد شمیم
کبھی ہم خوبصورت تھے
کبھی ہم خوبصورت تھے
انورزاہدی
زندگی کی تصویریں
ہمارے درمیاں پھیلی یہ دُوری
مختصر لباسوں میںگُلبدن حسینائیں،
خواب کچھ ادھورے سے
ایک نظم طارق اور شندانہ کے لئے
قرئیہ درد میں
کٹی عمر جتنی فسوں تھا
نئے موسم کی چاہت
تمہیں دیکھ کے یہ گُماں ہوا
ایک نظم ستارے جھلملائے گی
ب
ساتھ دے پر مری رہ گزر دیکھ کر
بدیع الزمان
انصاف داری
میرے بش کو جوتا کیوں مارا
دل دروازے کے بند کواڑوں پر ایک نوحہ
پ
پروین شاکر
وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں؟
ت
تعارف اللہ خاوری
تسلیم الہی زلفی
ث
ثریاشہاب
صلیب اپنی ہمیں آپ ہی اٹھانی ہے
ج
جعفر رضوی
ح
حسن عباس رضا
خ
خاور چودھری
د
دلشاد نسیم
ر
رفیع رضا
کیا بتائیں کہ کس قدر روئے
جنگل میں اِک مچان مِلے تو مَیں کُچھ کہوں
یقینًا ڈگمگاتا ہُوں زیادہ
بح سویرے کام پہ جانا یاد رھا
جھے ماتھے پہ بل دینا ضروری ھو گیا ھے
بلا کا طیش ھے پر میرے اختیار میں ھے
آ گیا ھُوں جُھکا نہیں جاتا
دیوار ہی نہیں ہے تو دَر دیکھتا ہے کیا
لڑائی زور کی تھی جھنڈا گاڑ کر نکلا
مُجھے نوید نہ دے ختم سال ھونے کی
بند تھا کس طرح سے نکلا ھے
مرے دماغ کاپارہ بھی مُجھ پہ گرتا ھے
ز
زرقا مفتی
خوابوں کی تتلیوں کو اُڑا دینا چاہئے
س
سرور عالم راز سرور
بات انوکھی ہے یہ کیسی کوئی تو مجھ کو سمجھائے
کچھ اپنی خوش گمانی کا کچھ ان کی بدگمانی کا
شکوہء دوست نہیں، تہمت اغیار نہیں
زیست ناشاد تھی اور موت کا ساماں نہ ہوا
اگر تو ہر نفس فطرت کا ہم آواز ہو جائے
قصہء غم کہتے کہتے خود فسانا ہوگئے
رنگ و خوشبو، شباب و رعنائی
محبت میں آہِ رسا چاہتا ہوں
اندازِ خزاں رنگِ بہاراں نہیں دیکھا
دیکھ تو دردِ عشق سے میرے دل کو کیا آرام ہوا
غمِ زندگی ترا شکریہ ترے فیض ہی سے یہ حال ہے
غم ملے، حسرت ملے، رسوائی بے جا ملے
نگاہِ دل نشیں ہوئی خیالِ دلکشا ہوا
دل شکستہ ہوئے رسوا ہوئے بدنام ہوئے
کسی کی جستجو ہے اور میں ہوں
اس طرح ان سے حکایاتِ الم کہتے ہیں
گہ وہ نظر ملائے کیوں گاہے نظر چرائے کیوں
سلسلہ ان سے گر نہیں ہوتا
اے دل تری قسمت میں راحت نہ شکیبائی
یوں ہاتھ دھوئے بیٹھے ہیں دل اور جگر سے ہم
عشق و جنوں کا سرد ہے بازار دیکھنا
ہر سنگ پہ لکھا مرا افسانہ رہے گا
آفت ہے مصیبت ہے قیامت ہے بلا ہے
بُرا ہو عشق ترا، ہوشِ جسم و جاں نہ رہا
مرا دل زمانہ سے ہے جدا، سمن و گلاب کو کیا کروں
اللہ اللہ یہ برنائ
اٹھے ہم خستہ دل آشفتہ سر بے اختیار اٹھے
کیوں غریبِ آرزو کو اس طرح رسوا کیا
رہینِ خود ستائی تھا، میں کشتہء انا رہا
یاد جب آپ کی نہیں ہوتی
فکر کیوں ہو آپ کو میرے دلِ ناشاد کی
ایماں گیا سکون گیا زندگی گئی
دیکھ تو دردِ عشق سے میرے دل کو کیا آرام ہوا
غمِ زندگی ترا شکریہ ترے فیض ہی سے یہ حال ہے
حسن عرفانِ حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں
غم ملے، حسرت ملے، رسوائی بے جا ملے
زمانہ میں کوئی تم سا نہیں ہے
شریکِ غم نہ رہا اور ہم زباں نہ رہا
ابھی کیا تھا، ابھی یہ ہوگیا کی
کشاکشِ غمِ ہستی ستائے کیا کہئے
پھر اسی غم سے آشنائی ہے
دل نے دہرائے کتنے افسانے
وہ آئیں اگر اس دم، معلوم ہے کیا ہوگا
بات انوکھی ہے یہ کیسی کوئی تو مجھ کو سمجھائے
سامنے ہے مرے لیکن نظر آتا بھی نہیں
تنگ آچکے ہیں یورشِ بے چارگی سے ہم
یہ دنیا شہرِ نا پرساں، زمانہ یہ سیاست کا
ہمیں کیا کیا ملا اس آستاں سے
قصہء غم کہتے کہتے خود فسانا ہوگئے
رنگ و خوشبو، شباب و رعنائی
سرور جگر کے داغ نمایاں نہ کیجئے
اں نہیں اگر ازل تھا تو کیا ابد ہے، مکاں ہے، یا لامکہے
یہ اچھا ہوا وہ خفا ہوگیا
تلاشِ لالہ و گل فکرِ رنگ و بو نہ رہی
نیازِ عشقِ بتاں ہے کیسا، غرورِ حسن و شباب کیا ہے
نیازِ عشقِ بتاں ہے کیسا، غرورِ حسن و شباب کیا ہے
سعادت سعید
کھلونے
ماضی سے ہمیں لینا کیا؟
تم کیوں اتنے بے دل ہو
شکست
طلوع
کس شوخ کی آنکھوں کے رنگین اشارے ہیں
دیارِ شوق کے خوابیدہ راستے جاگے
آنکھوں سے وہ کبھی میری اوجھل نہیں رہا
شکوں سے اپنی جھولی قدح خوار بھر چکے
سو بار فرطِ شوق سے بھنورا چکے ہیں ہم
ص
صفدر ہمدانی
خوشبو کا جنگل
حالتِ خواب میں ہوں یاپھر میں؟
اپنی آنکھوں میں ترا عکس دکھانا چاہوں
قرب کا زہر مری روح میں زندہ ہے ابھی
تم بھی اب جو شامل ہو دوستوں کی سازش میں
کیا یہ بڑی بات نہیں؟
مسکراتے ہوئے وصال کے پھول
موت زندگی ہی ہے
ش
شمس جیلانی
ع
عاکف غنی
منزلیں مل جائیں گی، ہاں، رہنما کوئی تو ہو
علامہ اقبال
حضرت امام حسین
نعتِ رسولِ مقبولۖ
عابد جعفری
عارف فرہاد
نہ سیم و زر نہ سمن اور نہ باغ مانگتا ہے
موت
محبت کچھ نہیں ہوتی
سمندر کی آنکھوں میں دکھ بھر چکا ہے !
میں کہتا ہوں
خواب دھرتی پہ اُگتی ہوئی ایک نظم
موج میں آکر ہم دونوں مٹ جائیں
عجب مجذوب صحرا ہے
مجھے یہ لوگ کہتے ہیں
خواب آنکھوں سے گر گئے شاید
کشمیر کے لئے ایک نظم
ہجر کی تنہائیوں میں بال بکھرائے ہوئے
یقیں نے ایسے سجائے تھے دھیان کے پردے
بظاہر گھائو ہیں اندر مرا اب بھی سلامت ہے
کیا عجب زیست کی بہاراں ہیں
مری خاک خاک سی ذات پڑھ، مری شکل کے خدوخال دیکھ
گھنیری رات زمانے میں انتہا کی تھی
جب کبھی وہ آنکھ بھر کر دیکھتے
اے اضطرابِ زیست کچھ آکر بتا مجھے
اُس نے جب آسمان ہمیں کھول کر دئیے
آنکھیں ہیں نڈھال اِس ایک غم پر
پوچھا کہ گھائو ہجر کے کیوں بے شمار ہیں
زندگی میں نے گزاری رینگ کر اِس دھول تک
اک سمندر ہے خلا میں اور کنارا آنکھ میں
صحرا و دشت و بحر کی زنجیر کھول دے
ذرا سا جذب تو کر لے مجھے وطن کی خاک
چلو یہ فائدہ تو ہے مری اُڑانوں کا
کوئی برکھا یہاں برسے نہ برسے
بس اک اُڑان میں فرہاد اک سفر کر لوں
دل کے چاند ستارے لوگ
پیروں میں اپنے حال کی زنجیر دیکھ کر
کچھ اِس طرح سے مری ذات میں وہ کھو جائے
بجا کہ زیست میں تیری نہیں ہیں شامل پر
دھنک کے رنگ بنا کر وہ شعر کہتی ہے
گرچہ اپنے وقت کی رہگزار رات تھی
اپنے جوہر سے کبھی پھر مجھے تصویر کرے
نہ جنگ جیت سکے ہیں کوئی نہ ہارے ہیں
یہ دھول اُڑے اور بکھر جائیں کہیں
کیا حقیقت ہوں کیا گماں ہوں میں
بے ترتیب اَدھورے خوابوں جیسے ہیں
دل کے آنگن میں کوئی دیپ جلانے کے لئے
جسم تیرا کتاب کی مانند
زمیں کے سر پہ جو سورج کا تاج ہو جائے
نظر کی کھڑکیاں تو کھولتا ہے
وہ کہیں یا نہ کہیں دار سجا دیتے ہیں
آتے کب ہیں جو جاتے ہیں
بہار ہے کہ خزاں کر رہی ہے آہ و فغاں
کھِلے تھے پھول جو دل میں پرانے ہو گئے ہیں
مجھے بہ فیضِ تفکر ہوا ہے یہ ادراک
جسم کو جلا کر دکھ رُوح میں اُترتے ہیں
ساتھ میرے کبھی دو روز گزارے ہوتے
تیری نظر کا معجزہ کرب کو یوں بدل گیا
کیوں ہر اک دھڑکن پہ جسم و جاں کو تڑپاتا ہے توُ
بولے ہے روپ آپ ترے خدّوخال کا
وہ کسی کا ہے، مرے پاس بھلا کیسے ہو
وہ میری ذات کا دکھ جانتا ہے
کیسے پہلو بدلتی رہتی ہو
بے ضمیر لوگوں کے ظلم کم نہیں ہوتے
سورج سے عجیب دوستی ہے
نہ تو دل سا کہیں دریا ہے، نہ دل سا صحرا
با وفا نئیں تو بے وفا کب ہیں
حیرت سے خود کو دیکھتا ہوں
ہوا کے رُخ پہ تری ساری لہلہائی ہے
زہر جدائی کا جب دل میں اپنا رنگ جماتا ہے
میں بھی بن ٹھن کر کھڑا تھا اک پریشاں حال میں
ہر آن میری آنکھ میں بس یہ ہی شک بھرا
ہم اور وہ اور اُس کا کنارا نہیں رہا
یہاں کہیں بھی نہ خیمہ کوئی لگائو مرا
ٹوٹے پھوٹے خوابوں میں بھی تیرے ہجر کا دھیان
کب سمجھتا ہے زمانہ آدمی کا مسئلہ
میں اپنے آپ کو مسمار کر کے
چراغ و حجلہ و دیوار و در کی روشنی ہے
بہارِ دشتِ سخن میں کھِلا خیال ہے تُو
قربت کا کوئی لمحہ بھلایا نہیں گیا
اُس سے ہم خاک بہ سر' دیکھئے کیا مانگتے ہیں
ساحل پہ پڑے ایک بھی گوہر میں نہیں تھا
ہم نے جتنے رنگ بکھیرے ، جتنے نقش اُبھارے
نیلگوں فلک پر ایک آفتاب اُبھر جائے
مجھ پہ مصیبتوں کے گل لاکھوں گرا چکی ہوا
ماضی کے زخم بھر گیا ہے
قفس کو توڑ کے آئے اِسی گمان میں ہم
میرے کوزہ گر کا یہ مشغلہ پرانا ہے
اتنا ہوں تنگ زیست کے دیوار و دَر سے میں
ہر آن میری آنکھ میں بس یہ ہی شک بھرا
یہاں کہیں بھی نہ خیمہ کوئی لگائو مرا
غم نے مری نگاہ کو کیسے عجب ہُنر دیئے
اے مرے خوش خیال تُو اب نہیں خوش جمال تو کیا
وَمَا اَدرٰ کَ ماالقَارِعَہ( کوئٹہ میں زلزلے پر)
عباس تابش
عتیق الرحمن صفی
یہ دل نگری ویران ہوئی اب پچھلی رُت نہ آئے گی
لے گی نسلِ نو حساب تیرے میرے پیار کا
ہر سمت یہ ایک دہائی ہے سب کے ہمرہ چل پڑتا ہے
جدائی میں رسوائی اچھی لگی ہے
سپردگی
کچھ لطف دے رہا ہے فرقت کا جام اب کے
اِس طرح اب ہم کو تنہا وقت کر تا جائے ہے
مری ہم سفر
بجھتے دئیے جلائے گا تیرے بغیر کون
اس نے آ کر کہنا ہے
یو ۔ ٹرن
گزارش
جھلکتا ہے آنکھوں میں وہ آج ایسے
مامور رتجگوں پر چاہت کا خواب کیوں ہے؟
ضوابط محبت کے معلوم سب ہیں
صَد شکر اپنی قسمت ہم بھی سنوارآئے
میں گھبرا کے تجھ سے یہ کہتا ہوں جاناں
مرے دل کا موسم تو گھبرا رہا ہے
موسم
میری سوچ کے ساحل پر
میری سوچ کے ساحل پر
میری سوچ کے ساحل پر
ضرورت ہے بڑی ہر پل مجھے تم یاد آتے ہو
ہم کبھی نہ ہوں جُدا یوں ہاتھ میرا تھام لو
اب ہمارے درمیاں کچھ نہ کچھ تو ہے جناب
ک پل کی رفاقت بھی احسان سمجھتا ہوں
آخر کب تک داغِ جگر کو سب سے چھپا کے رکھوں گا
گوری
سبھی دکھ درد اِس دل کے ہوائوں میں بکھر جائیں
چودھویں کا چاند
ایسا ہی تو اضافہ ہے
اب دیکھ ذرا تُو ایک نظر دل اُجڑا ہے ویران نگر
ہم ایک ہو گئے ہیں
خوشیوں میں یوں جیون اپنا
نہیں کچھ رہا اب مری زندگی میں
کسے خبر ہے
اے مرے رہبرو
جب اُن کے رُخ سے نقاب اُترے
اسیرِ وفا رہ گئے ہم اکیلے
بہت یاد آتا ہے اے جانِ جاناں
کوئی نہیں ہمارا پرسانِ حال اب کے
تو مجھ میں بس گیا ہے
میں چاہوں مُڑ کے دیکھو تم مجھے اک بار جیون میں
مجبور رہے ہر دور میں ہم
تمھارے در سے ہٹا ہے یہ دل
میں کہتا نہیں ہوں اگرچہ کسی سے
خواہش
وارفتگی سے مجھ کو کبھی دیکھتے تھے وہ
نہیں ایسا ہرگز کہ گھائل نہیں ہوں
قرضِ الفت ہے اب بھی تمھارا سجن
میں رودادِ غم اپنی کِس کو سنائوں
جیون بھر کی آس ہے تو
وہ خوبصورت دن
یہ دن
دیکھ کر اس کو جیتے تھے ہم دوستو
وہ دور ہو رہا ہے
محبت
کہیں بھی رہنا خیال رکھنا
بہت رو چکا ہوں
سوکھے پیڑ سے ٹیک لگائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں
دلِ مضطرب
جس کو چاہا تھا نہ ملا مجھ کو
تمہیں کیا خبر غم میں لذت ہے کیسی
سوکھے پیڑ سے ٹیک لگائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں
ساتھی ہو تم تو (ایک منظوم خط)
پھر صدائے محبت سُنی ہے ابھی
ترے بن الم ایسے گھیرے ہیں گھر میں
شجر نہ سایۂ دیوار ہے کوئی
کتھارسس 2
کتھارسس 1
مری مشکل اگر آساں بنا دیتے تو اچھا تھا
عادت سی ہو گئی ہے مجھے انتظار کی
لمحہ لمحہ یاد آتا ہے پچھلی رُت کا ساتھ تمہارا
گہنا
تتلیوں کی خواہش